|

وقتِ اشاعت :   July 15 – 2025

کوئٹہ:  سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے لوگ مادر وطن کے اجتماعی امور پرقومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی سرزمین کے معاملات خود حل کریںنہ کہ کسی معجزے کا انتظار کریں،

مصلحتوں کے شکار سیاسی جماعتوں نے بلوچستان کو حقیقی نمائندگی سے محروم رکھا ہے، گزشتہ اسمبلی نے ریکودک،

آج کی اسمبلی نے باقی ماندہ وسائل کو نیلام کیا، تاریخی لوٹ مار میں شامل سیاسی مجرموں کا راستہ نہ روکا گیا تو صوبے کے لوگوں کو اس محکومی،

غلامی اور غربت سے نکلنے میں مزید صدیاں لگیں گی،یہ بات انہوں نے منگل کے روز سراوان ہائوس میں مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے ملاقات میںگفتگو کرتے ہوئے کہی۔ نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے مزید کہاکہ قوموں کے سنجیدہ درد دل رکھنے والے لوگ اپنے قومی معاملات پر اجتماعی اصول طے کرکے قوموں کو مزید بحرانوں اور نقصانات سے بچاتے ہیں آج وقت ہے کہ قومی سرزمین بلوچستان کے لوگ اپنی سرزمین کے معاملات خود حل کریں

نہ کہ کسی معجزے کا انتظار کریں، انہوںنے کہاکہ آج اس سرزمین کے لوگوں کو بہت سے بڑے مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے اگر 28 دسمبر 2021ء کو بلوچستان اسمبلی کے ہونے والے پراسرار ان کیمرہ اجلاس میں ریکودک کو فروخت کرنے کی بجائے اس پراسرار اجلاس میں شریک سیاسی جماعتیں ریکودک کو آئندہ نسلوں کی امید اور خوشحالی کا ذریعہ سمجھتے ہوئے خفیہ ڈیل نہ کرتیں تو آج کی اسمبلی مائنز اینڈ منرلز ایکٹ پاس کرکے اس سرزمین کے زرے زرے کو فروخت نہ کرتی اس تاریخی لوٹ مار میں شامل سیاسی مجرموں کا راستہ استحصالی نظام، جبر اور بدامنی سے متاثرہ بلوچستان کے لوگوں نے ہی روکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بلوچستان کی سیاسی جماعتیں مصلحتوں کا شکار ہیں ،ایسے وقت میں جب بلوچستان کو حقیقی نمائندگی کی ضرورت ہے

 سیاسی جماعتوں نے اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ لوگوں کو اپنی صفوں میں شامل کرکے انہیں سیاسی کارکنوں پر ترجیحی دی ہے یہاں تک کہ غیر مقامی اور غیر ملکی باشندے بھی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں،

ایسے میں بلوچستان کے ہر شخص کو آئندہ نسلوں کے وقار ، عزت کیلئے اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بلوچستان کے حقوق کا دفاع پارلیمنٹ سے باہر کرنا ہوگا، اب بھی اگر اجتماعی قومی امور پر بلوچستان کے لوگوں نے فکری، اجتماعی یکجہتی کا مظاہرہ نہ کیا تو گزشتہ اسمبلی نے ریکودک، آج کی ڈمی اسمبلی نے آئندہ نسلوں کے وسائل کا سودا کیا آئندہ آنے والے دنوں میں بلوچستان کے لوگ جعلی قانون سازی ،ریاستی طاقت کے نتیجے میں مزید غلامی اور محکمومی کی زندگی گزارہیں گے اوراس محکومی، غلامی اور غربت سے نکلنے میں مزید صدیاں لگیں گی۔

انہوںنے کہاکہ سیاسی جماعتوںنے مختلف ادوار میں اسمبلی میں مختص اپنا کوٹہ حاصل کیا ہے اور آئندہ کوٹہ کے انتظار میں ہیںانہیں بلوچستان کے لوگوں کے قومی حقوق، ترقی و خوشحالی میں دلچسپی نہیں ان کی دلچسپی پی ایس ڈی پی میں ہے انہیں پی ایس ڈی پی کے نام پر لوٹ مار کی آزادی اس لیے دی گئی ہے تاکہ نام نہاد اسمبلی اس لوٹ مار میں مصروف رہے اور قومی سرزمین کے کھربوں کے وسائل جو آئندہ نسلوں کی خوشحالی کا ذریعہ ہیں طاقت ور حلقے اس کو لوٹ کر ہماری آنکھوں کے سامنے لے جائیں۔