پی ٹی آئی نے ایک بار پھر سڑک گرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس بار بھی پنجاب احتجاج کا مرکز ہے ۔
پی ٹی آئی نے ماضی میں بھی احتجاجی تحریکیں چلائیں مگرسوائے سیاسی نقصان کے پی ٹی آئی کے ہاتھوں کچھ نہیں آیا۔
9 مئی اور 26 نومبر جیسے سانحات نے پی ٹی آئی کو زیادہ نقصان پہنچایا اس کی وجہ یہ ہے کہ پر امن احتجاج کی بجائے تشدد کا راستہ اپنایا گیا، بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر رہنماؤں کی رہائی کیلئے پْرامن احتجاجی تحریک اور سیاسی ڈائیلاگ کو ترک کیا گیا حالانکہ حکومت بات چیت کیلئے ہر وقت تیار رہی ہے مگر پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کو زیادہ اہمیت دیتی رہی ہے اور اس کا اظہار بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر قائدین کر تے رہے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے خود کو سیاسی معاملات سے مکمل الگ رکھا گیا ہے اور واضح پیغام بھی دیا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے مسائل خود بیٹھ کر حل کریں لیکن پی ٹی آئی نے کبھی بھی حکومت سے سنجیدہ ڈائیلاگ کی کوشش نہیں کی۔ اس کی ایک بڑی وجہ پی ٹی آئی کے اندر شدید اختلافات بھی ہیں اب بھی بعض سیاسی رہنماء بات چیت کرنا چاہتے ہیں جن میں اسیر اور باہر قیادت سنبھالنے والے بھی شامل ہیں ۔
پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت سے لیکر بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کے اندر بھی سیاسی معاملات پر بدترین اختلافات ہیں اور ہر کوئی پارٹی پر اپنا اثر رسوخ چاہتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی اب سیاسی منظر نامے سے مکمل غائب ہیںجبکہ بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان فرنٹ پر ہیں ۔
دوسری طرف بانی کے صاحبزادوں کی بھی سیاسی انٹری کی باز گشت چل رہی ہے جن کی پاکستان آمد اور اپنے والد سے ملاقات سمیت سیاسی تحریک میں شمولیت باتیں کی جارہی ہیں مگر ایسا ماحول اب بھی نہیں لگ رہا کہ بانی پی ٹی آئی کے صاحب زادے پاکستان آکر سیاسی معاملات چلائیں گے ۔
یہ ایک سیاسی دباؤ کابیانیہ ہے کہ ان کی پشت پر امریکہ ہے مگر ریاستی مفادات اور پالیسیاں شخصیات سے بالاتر ہوتی ہیں ۔
بانی پی ٹی آئی کا اپنے آپ کو دنیا بھر میں ایک مقبول لیڈر ہونے کے زعم نے بھی سیاسی طور پر نقصان پہنچایا ہے مگر یہ وہم و برم ختم نہیں ہورہا۔
اب پی ٹی آئی سیاسی تحریک چلانے جارہی ہے مگر موجودہ قیادت اختلافات کا شکار ہے۔
5 اگست کو احتجاج کی کال پر مرکزی اور پنجاب قیادت میں اختلافات واضح طور پر سامنے آگئے ہیں۔
پنجاب کی چیف آرگنائزر نے 5 اگست کو احتجاج نہ کرنے پر عہدہ چھوڑنے کی دھمکی دے دی۔
پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور سمیت دیگر مرکزی رہنما 90 دن میں فائنل احتجاج کی کال پر قائم ہیں، تاہم پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ 5 اگست کو فائنل کال کے مؤقف پر ڈٹ گئی ہیں۔
بہرحال یہ اختلافات پارٹی کے اندر صرف احتجاجی تحریک کے حوالے سے صرف موجود نہیں ہیں بلکہ مذاکرات سمیت دیگر پالیسیوں کی وجہ سے بھی پی ٹی آئی میں شدید اختلافات ہیں ۔
ان سیاسی حالات میں ایسا لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی احتجاجی تحریک سے قبل ،اس کے دوران یا پھر ناکامی کے بعد مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو جائے گی اور پی ٹی آئی مزید سیاسی مشکلات سے دوچار ہوجائے گی۔ اگرپی ٹی آئی واقعی سیاسی حوالے سے سے کچھ حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کا واحد راستہ حکومت سے مذاکرات ہیں ،اس کے علاوہ ان کے تجربات ناکام ہی ثابت ہوئے ہیں۔