|

وقتِ اشاعت :   July 18 – 2025


ملکی ترقی میں زراعت کا شعبہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے، پاکستان ایک زرعی ملک ہے ماضی میں ملکی پیداواری صلاحیت کی شرح بہت زیادہ تھی غذائی اجناس کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ برآمدات میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے کوملا مگر گزشتہ چند برسوں کے دوران موسمیاتی تبدیلی، پانی، بجلی کی قلت، کسانوں کوسہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے زرعی شعبہ بہت زیادہ متاثر ہوا ہے۔
کسی بھی ملک کی ترقی میں زراعت کلیدی کردار ادا کرتا ہے خاص کر پاکستان جیسا ملک جوکاشت کے لیے انتہائی موزوں ہے مگر فصلوں کی پیداوار کے نظام میں پانی کے استعمال کی کارکردگی انتہائی کم ہے۔
زرخیز زمینیں کاشت سے باہر ہو چکی ہیں لیکن آبادی اور فی کس آمدنی میں اضافے کی وجہ سے خوراک کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
طلب اور رسد کے درمیان بڑھتا ہوا فرق مستقبل میں غذائی تحفظ اور غربت کے خاتمے کی حکمت عملیوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
اِس صورتِ حال میں زرعی شعبے کو درپیش مسائل اور چیلنجوں کو سنجیدگی کے ساتھ حل کیا جانا بے حد ضروری ہے تاکہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ،غذائی ضروریات کو پورا کرنے ساتھ برآمدات میں بھی ریکارڈ اضافہ ہو۔
گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی ترقی کے لیے منصوبہ بندی اور ایگری فنانسنگ پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے کسانوں کو آسان شرائط پر قرضوں کیلئے لائحہ عمل بنانے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ 12 ایکڑ سے کم زمین والے کسانوں کو زرعی سہولیات کی فراہمی ترجیح ہونی چاہیے، پاکستان کی ترقی زرعی شعبے اور کسانوں کی پیداوار کی ویلیو ایڈیشن سے مشروط ہے۔
زرعی شعبے میں ترقی کے لیے چھوٹے کسانوں کو سہولیات دینا اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
بہرحال کسانوں اور کاشتکاروں کو جدت کی طرف بڑھانے کیلئے سرمایہ کاری بھی ضروری ہے اور پانی ذخیرہ کرنے کیلئے موثر حکمت عملی اپنانی چاہئے کیونکہ ملک میں بارشوں کا پانی سیلاب کی صورت میں ضائع ہورہا ہے۔
کسانوں کو سبسڈی دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ اس ریلیف سے فائدہ اٹھاکر کاشتکاری میں اضافہ کر سکیں۔
پاکستان میں زراعت کے شعبے کی تنزلی کی بڑی وجہ کسانوں کے پاس جدید مشینری اور اوزاروں کا نہ ہونا بھی ہے ،حکومتی سطح پر تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے زراعت کو جدت کی طرف بڑھانے کے ساتھ کسانوں کو تربیت دینا چاہئے تاکہ جدید حالات کے تقاضوں کے مطابق زراعت کے شعبے میں انقلاب لایا جاسکے جس سے زرعی شعبے میں واضح بہتری کے امکانات پیدا ہونگے جس سے ملکی معیشت میں کافی بہتری آنے کے ساتھ غذائی ضروریات بھی پوری ہونگی، کسان بھی خوشحال ہونگے ،دیہی علاقوں میں معاشی تبدیلی آئے گی۔