کوئٹہ : سینئر سیاستدان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی نے کہا ہے کہ ہماری شناخت ہمارا تاریخی کردار ہے اس شناخت کو چار لیویز اہلکاروں کے ذریعے نہیں بنایا،
حکومت نجی سیکورٹی پر پابندی عائد کرنے کے بعد ہمیں ہماری سیکورٹی کی ضمانت دے اور یہ ضمانت بھی دی جائے کہ اگر ہمارے ساتھ یا ہم جیسے کسی اور کیساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔
یہ بات انہوں نے ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ کے نام ایک خط میں کہی جس کی نقول گورنر بلوچستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ، چیف سیکرٹری بلوچستان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن، آئی جی پولیس، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ڈی آئی جی پولیس کوئٹہ کو بھی بھیجی گئی ہیں،
نوابزادہ حاجی میر لشکری رئیسانی نے اپنے خط میں ایس ایس پی آپریشن کوئٹہ محمد بلوچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ دن پہلے آپ کا ایک پوڈ کاسٹ میری نظر سے گزرا جس میں آپ نے کہا کہ حقیقی معتبرین اپنی سیکورٹی کیلئے اسلحہ نہ اٹھائیں مگر آپ نے اپنے اس پوڈ کاسٹ میں سمگلرز، قبضہ گیروں اور جرائم پیشہ افراد کو مخاطب نہیں کیا؟
آپ کے اس عمل سے مجھے قطعا حیرانگی نہیں ہوئی تاہم آپ سے میرا سوال ضرور ہے کہ آیا یہ آپ کا اپنا نقطہ نظر ہے یا پالیسی ہے کہ بلوچستان کو اس کی حقیقی سیاسی و سماجی قیادت سے محروم رکھا جائے۔
میں عموما کوئٹہ شہر، اندرون بلوچستان اور بیرون صوبہ ایسے بہت سے لوگوں کو دیکھتا آیا ہوں جن کی کوئی سیاسی و سماجی شناخت نہیں تاہم اس کے باوجود سرکاری اہلکار ان کی سیکورٹی پر مامور ہیں حتی کہ ایک چائینکی ہوٹل والے کو بھی سرکاری اسکواڈ دیا گیا ہے جس کا مطلب ریاست آپ کے ذریعہ یہ کوشش کررہی ہے کہ بلوچستان میں مزید جعلی قیادت پیدا ہو
اور حقیقی قیادت کا راستہ روکا جائے اگر ہم عموما آپ سمیت بڑے بڑے ریاستی عہدوں پر فائز لوگوں کو دیکھیں تو آپ لوگ سیکورٹی کے کانوائے میں گھوم رہے ہوتے ہیں اگر حالات اتنے بہتر ہیں تو آپ بھی اپنے کانوائے اور اسکواڈ ختم کریں اگرحالات ٹھیک نہیں تو آپ کو چائیے کہ اگر اس شخص کو جسے واقعی سیکورٹی تھریٹ ہے اس کو اس کے تحفظ کی ضمانت دیں۔
جہاں آپ اور آج کی حکومت یہ کہتی ہے کہ حالات ٹھیک کریں گے لیکن عملا صوبے کی تمام قومی شاہراہیں اکثر اوقات عموما بند رہتی ہیں بالخصوص رات کے اوقات میں سفر نہیں کیا جاسکتا۔ صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سے بیس کلومیٹر کے فاصلہ پر ریاستی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے، کوئٹہ واحد شہر ہے جہاں آپ نے نجی سیکورٹی پر پابندی عائد کی ہے ایسے میں آیا آپ لوگوں نے شہر کے حالات ٹھیک کردیئے ہیں یا آپ لوگ نہیں چاہتے کہ وہ لوگ جنہیں سیکورٹی تھرٹس ہیں وہ اپنی حفاظت خود کریں۔ یہاں یہ امر پوشیدہ نہ رہے کہ ہمارا خاندان براہ راست دہشت گردی کا شکار رہا ہے لہذا میں آپ سے اور آپ کے حکام بالا سے یہ چاہتا ہوں کہ ہماری سیکورٹی کی ضمانت دی جائے ہم آئندہ اسلحہ نہیں اٹھائیں گے نہ ہی ہم کسی شوق سے اسلحہ اٹھاکر نکلتے ہیں ہماری شناخت ہمارا تاریخی کردار ہے اس شناخت کو چار لیویز اہلکاروں یا اسلحہ کے ذریعے ہم نے نہیں بنایا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ ضمانت دیں آئندہ ہمارے ساتھ یا ہم جیسے کسی اور کیساتھ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کے ذمہ دار آپ یہ نظام اور حکومت وقت ہوگی۔