|

وقتِ اشاعت :   July 23 – 2025

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات دہائیوں سے چلتے آر ہے ہیں۔
بلوچستان، پنجاب، سندھ، خیبرپختونخواہ سر فہرست ہیں جہاں سردار، ملک، وڈیرے، مشیران اپنی عدالت لگا کر فیصلے سناتے ہیں جو کہ اپنے حلقوں میں بااثر اور طاقتور ہیں۔
پنچایت اور جرگے کے تحتپہلے سے طے شدہ اپنا فیصلہ سناتے ہیں ۔
المیہ یہ ہے کہ انہوں نے ریاست کے اندر اپنی ریاست بنائی ہوئی ہے جس میں سیاہ و سفید کے مالک یہ خود ہیں۔
نام نہاد غیرت کے نام پر قتل جیسے فیصلے عام ہیں جبکہ یہ فیصلے بھی اکثر پسے ہوئے اور نچلے طبقے کے خلاف ہی کئے جاتے ہیں، کبھی بھی کوئی ایسا کیس سامنے نہیں آیا کہ غیرت کے نام پر کسی سردار، ملک، وڈیرے، مشران کے قریبی عزیز رشتے دار کو قتل کیا گیا ہویا اس کے خلاف جرگہ و پنچایت لگی ہو اور اسی طرح کا فیصلہ کیا گیا ہو۔
یہ ہمارے ہاں طاقت کے توازن کو آشکار کرتا ہے کہ طاقتور مظلوم پر آج بھی کتنا حاوی ہے۔
بہرحال غیرت کے نام پر درجن بھر افراد دو نہتے لوگوں پر فائرنگ کرکے انہیں قتل کرکے کونسی بہادری اور غیرت کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔
بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ کے نواحی علاقے سنجیدی ڈیگاری میں خاتون اور مرد کو جس بیدردی سے قتل کیا گیا اس کی نظیر نہیں ملتی ،اس کیس میں بااثر شخصیات کے ملوث ہونے میں کوئی شک نہیں۔
یہ حکومت کیلئے حقیقتاً ٹیسٹ کیس ہے جس کی شفاف تحقیقات کے ساتھ قتل میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے جبکہ عدلیہ سے بھی یہی امید اور توقع ہے کہ ملزمان پر جرم ثابت ہونے پر ان کو قانون و آئین کے تحت سخت سزا دی جائے گی۔
تاہم ایسے کیسز میں عموماً یہی ہوتا ہے کہ بااثر شخصیات اپنی پوری طاقت کیس کو کمزور کرنے پر لگا دیتے ہیں جن کے پاس پیسہ، طاقت سب کچھ ہے ،اس طرح کے کیسز میں بیشتر متاثرہ خاندان فریق بننے سے بھی ڈرتے ہیں اگر ہمت کرکے فریق بن بھی جاتے ہیں تو انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا ہے تاکہ وہ ایک موقع پر کیس سے دستبردار ہو جائیں، پھر کچھ لین دین کرکے معافی تلافی کرائی جاتی ہے۔
اگریہی سب کچھ اس کیس میں بھی ہوتا ہے تو غیرت کے نام پر اس طرح کے واقعات ہوتے رہیںگے ،طاقتور طبقہ کمزور کو دباتا رہے گا، یہ فرسودہ نظام اسی طرح چلتا رہے گا مگر یہ کسی بھی مہذب قوم کے روایات کا حصہ نہیں، یہ صرف ایک مخصوص طبقے کی طاقت اور اختیار کے انا کا معاملہ ہے جس کے بل بوتے پر وہ مظلوم کے تمام حقوق پر حاوی ہیں۔