|

وقتِ اشاعت :   July 24 – 2025

کوئٹہ :  عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ حکمران اشرافیہ 18ویں ترمیم کو ایس آئی ایف سی جیسے غیر آئینی ادارے کے زریعے رول بیک کی عزائم رکھتی ہے جو پشتون بلوچ اقوام کے حق پر کھلم کھلا ڈاکہ ہے

بلوچستان اسمبلی سے اس ایکٹ کا پاس ہونا لمحہ فکریہ ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ میں ملگری وکیلان اور پارٹی ذمہ داران کیساتھ بات چیت کرتے ہوئے کیا عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے گزشتہ روز بلوچستان ہائی کورٹ میں نیشنل لائرز فورم (ملگری وکیلان) اور پارٹی کے دیگر سینئر ذمہ داران کے ہمراہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف آئینی رٹ پٹیشن دائر کی یہ پٹیشن نیشنل لائر فورم سے وابستہ وکلا ٹیم ایڈوکیٹ نوراللہ شاہ ایڈوکیٹ حمیداللہ کاکڑ ایڈوکیٹ کلیم اللہ کاکڑ اور دیگر قانونی ماہرین کے توسط سے جمع کرائی گئی

پٹیشن میں مقف اختیار کیا گیا ہے کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ بلوچستان کے عوام کے قدرتی وسائل پر حقِ اختیار کو سلب کرتا ہے اور یہ قانون18ویں ترمیم کو رول بیک کرنے اور صوبائی خودمختاری کے آئینی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے

عوامی نیشنل پارٹی سمجھتی ہے کہ اس قانون کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو ان کے جائز حقوق سے محروم کیا جا رہا ہیاس موقع پر پارٹی ضلع کوئٹہ کے صدر ثنا اللہ کاکڑ اراکین مرکزی کمیٹی ڈاکٹر اقبال ترین ڈاکٹر عیسی خان جوگیزئی زین اللہ درانی سمیت پارٹی کے دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔