|

وقتِ اشاعت :   July 24 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)کی سینٹرل کمیٹی کا اجلاس زیر صدارت مرکزی صدر اسد اللہ بلوچ منعقد ہوا

اس سینٹرل کمیٹی میں بہت سے ایجنڈوں پر تفصیلی بحث ہوئی۔ اس سینٹرل کمیٹی میں پارٹی کے مرکزی صدر اسد اللہ بلوچ کے گھر پہ فورسزکی جانب سے جو لشکر کشی کی گئی جس میں سی ٹی ڈی ،اے ٹی ایف ،سول وردی میں پرائیویٹ ملیشیا نے غیر قانونی غیر آئینی محاورائے آئین عمل کی ہے

اس سے بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)بلوچ قوم کے درد رکھنے والے لاکھوں لوگوں نے اس عمل کی بھرپور مذمت کی ہے اس عمل کو حاکم وقت کی بدنیتی ،انتقامی کاروائی اور بلوچستان کے فضا ء کو مزید خراب کرنے کا جو انداز اپنایا گیا ہے پارٹی اس کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایسی سازشی انداز کی ہر فورم پر مخالفت کریگی اورقانونی چارہ جوئی کی جائے گی عوامی عدالت میں جائیں گے9جولائی کی رات پارٹی کے لیے اور بلوچ قوم کے لیے ایک بڑے سانحے سے کم نہیں ہے اور اُس رات کو ہم کبھی نہیں بھولیں گے

بڑھتی ہوئی ظلم اور جبر بی این پی (عوامی )کے ہمدردوں کو تنگ کرنا ایک گریڈ سے لے کر چھ گریڈ کے ملازمین کو ٹرانسفر کرنا معذوروں کو بھی نہیں بخشا گیا

ہر وہ مکاتب فکر جس کا تعلق بھی بی این پی (عوامی )کے ساتھ ہے اُس کو تنگ کرنا یہ حکمرانوں کی بوکھلاہٹ کی نشانی ہے ایسے عمل سے نفرتوں میں اضافہ ہوگا دوریاں ہوں گی اور بہت بڑے سنگین نتائج ہوں گے اس لیے ایسے غلط پالیسیوں سے گریز کیا جائے اس سلسلے میں تمام زونوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ 7اگست کو پریس کانفرنس ،ریلیاں ،دھرنا دے کر ڈپٹی کمشنرز کو یادداشت پیش کریں سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں مختلف ایجنڈوں پر تفصیلی بحث کے بعدپارٹی اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس ملک میں جامع پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے عوام کے مینڈیٹ کو سبوتاژ کرنے کے باعث انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کر کے خواہشات کی بنیاد پر ملک کو چلانے کا ایک نیا انداز اپنایا گیا ہے

اس سے پوراسماج غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہیں اس(25) پچیس کروڑ عوام کی آبادی والے ملک میں غلط پالیسیوں کی وجہ سے نو کروڑ سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں بین الاقوامی سروے کے مطابق خوراک نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں اموات ہر سال ہو رہے ہیں لیکن حکمراانوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں اور یہ اموات زیادہ تر بلوچستان میں ہو رہی ہیں

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس ملک کا بنیادی سوال محکوم قوموں کی خود مختیاری اورخود پاکستان کی آئین میں اٹھارویں ترمیم میں خود مختیاری کا ذکرتو ہے لیکن عملی طور پراس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوئی بلوچستان کو 75 سالوں میں نو آبادیاتی طرز حکمرانی کے طور پر چلایا جا رہا ہے بلوچستان کے ساحل وسائل عالمی منڈی میں فروخت ہو رہے ہیں اور ان کے سودے بھی بڑے پیمانے پر لگائے جا رہے ہیں چاہے ریکوڈک ہو یا سیندک ہو یا ہمارے 746کلومیٹر ساحل یا بلوچستان سے نکلی ہوئی گیس ہو یا 92 منرلز جو بلوچستان میں ہیں مائنز ڈیپارٹمنٹ نے سروے کی ہیں جس میں52 منرلز پہ اس وقت کام جاری ہے باوجود اسکے لیکن صد افسوس کہ اس سرزمین پر رہنے والے وارث دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں اس جدید سائنسی دور میں بلوچستان کی عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں

لیکن وقتاً فوقتاً بی این پی( عوامی) نے اسمبلی کے فلور اور اسمبلی کے باہر تحریراور تقریروں میں پرزور مطالبہ کیا ہے لیکن حکمران اور حاکموں کے کانوں پر جو ںتک نہیں رینگی

سی پیک کے نام سے6 5 بلین ڈالر کا معائدہ اور اس کی فرسٹ فیز میں 25بلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد بلوچستان کی پسماندگی اپنی جگہ برقرار ہے25بلین ڈالر اسلام اباد کی سپر ہائی وے موٹر ہائی ویز سولر انرجی پارک اور سی پیک سٹی سینٹر کے نام پر کارخانوں کا جال اور اسلام آباد اور لاہور کے سرمایہ داروں کی خواہشات پورا کر کے بڑے پیمانے پر کارخانہ لگایا گیا ایک مظلوم اور محکوم صوبے کے وسائل کو لوٹنا اور بلوچستان کے نام پر قرض لینا اور ترقیاتی عمل صرف پنجاب میں ہونا یہ وہ ناانصافیاں ہیں جس میں کافی دوریاں اور خلیج بڑھتی جا رہی ہے