|

وقتِ اشاعت :   July 24 – 2025

بلوچستان میں موجود مسائل سے انکار نہیں کیا جاسکتا ،پسماندگی اور محرومیوں کے باعث صوبہ ترقی کی دوڑ میں دیگر صوبوں سے بہت پیچھے رہ گیا ہے جس کی بڑی وجہ بیڈ گورننس اور کرپشن کے ساتھ حکومتوں کی مدت کا پورا نہ ہونا بھی ہے حالانکہ بلوچستان وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور اب بھی بلوچستان میں میگا منصوبے چل رہے ہیں جن سے بہت معمولی حد تک مقامی لوگوں کو بنیادی سہولیات سمیت روزگار فراہم کیا جارہا ہے، نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم اور اسکالر شپ بھی دیا جارہا ہے مگر اب بھی بہت کچھ کرنا ہے جس میں صوبے میں بہترین انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، پانی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہے جس کے لیے ایک خطیر رقم کی ضرورت ہے اس میں وفاق کی خصوصی دلچسپی ضروری ہے۔
قیام امن کیلئے بلوچستان حکومت کو بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھانا ہوگا تاکہ بات چیت کا عمل جاری رہے، طاقت کا استعمال کسی بھی طرف سے مزید انتشار کا باعث بن سکتا ہے جو بلوچستان کے مفاد میں بھی نہیں ہے، جنگ اور انتشار سے عام لوگ ہی متاثر ہونگے بلوچستان میں بدامنی کی حمایت قوم پرست جماعتیں بھی نہیں کرتیں، ان کا بھی زور ڈائیلاگ پر ہے اور مسئلے کا حل بات چیت کے ذریعے چاہتے ہیں ۔
اس وقت بلوچستان میں بدامنی یقینا ایک بڑا چیلنج ہے مگر اس کیلئے راستہ نکالنا مشکل نہیں جب تمام اسٹیک ہولڈرز ساتھ بیٹھ کر ایک روڈ میپ بنائینگے تو راستہ ضرور نکلے گا، امن بھی قائم ہوگا اوربلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گزشتہ روز کوئٹہ میں 16ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ماضی کی حقیقت جاننا ضروری ہے، بلوچستان سے متعلق دیگرعلاقوں میں پایا جانے والا تصورحقیقت کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر متوازن ترقی یا بیروزگاری شورش کی اصل وجہ نہیں، حکومت سے نالاں نوجوانوں کے شکوے دورکرکے انہیں گلے لگائیں گے تاہم ریاست مخالف کارروائیاں کرنے والوں سے آئین سے باہر بات ممکن نہیں۔
سرفرازبگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں امن کیلئے صوبائی ایکشن پلان تشکیل دے دیا گیا ہے،سکیورٹی فورسز گرے زونز میں آپریٹ کر رہی ہیں، دوست دشمن کی پہچان مشکل ہے تاہم دہشت گرد ایک انچ زمین پر بھی دیر پا قبضہ نہیں کر سکتے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ لاپتہ افرادسے متعلق جامع قانون سازی کی جا چکی ہے، بلوچ قوم کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گورننس اور سروس ڈلیوری نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں، صحت و تعلیم میں 99فیصد بھرتیاں میرٹ پر ہوئیں، طلبہ کو قومی و عالمی اسکالرشپس دے رہے ہیں۔
بہرحال ماضی میں بلوچستان کی بہت زیادہ حق تلفی ہوئی ہے، صوبے کو اس کے اپنے وسائل پر جائز حقوق نہیں دیئے گئے ،وفاقی بجٹ میں بلوچستان کا حصہ بھی دیگر صوبوں سے کم ہے بلوچستان میں وفاقی منصوبے بھی کم ہیں جبکہ صوبائی حکومت کے پاس اتنے وسائل اور آمدن نہیں کہ وہ بلوچستان بھر میں بڑے منصوبوں کا جال بچھاسکے۔
بلوچستان میں ترقی امن سے مشروط ہے اور اس کا براہ راست فائدہ عوام کو ملنا چاہئے جس کیلئے وفاق اور بڑی کمپنیاں جو بلوچستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں ،بلوچستان کو اس کا جائز حق و محاصل دیں تاکہ دیرینہ مسائل حل ہوسکیں۔
قیام امن اور لاپتہ افراد کے مسئلہ کا حل بھی اسٹیک ہولڈرز اور وفاقی حکومت کے مشترکہ حکمت عملی سے حل ہوسکتا ہے۔
بلوچستان حکومت کی جانب سے عام لوگوں کے مسائل کے حل سمیت تعلیم، صحت، روزگار اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے اقدامات قابل ستائش ہیں البتہ قیام امن کیلئے بلوچستان حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز اور وفاقی حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر ایک جامع پالیسی بنائے جس سے یقینا امن کا خواب پورا ہوگا اور بلوچستان میں ترقی و خوشحالی آئے گی۔