کوئٹہ: بلوچستان یوتھ پالیسی ہمارے نوجوانوں کے لئے ترقی و خوشحالی کی منازل کی جانب اہم سنگ میل ہے۔
ملک کے سب سے بڑے صوبے کے نوجواں کے لئے سمتی تعین حکومت اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
بلوچستان کی یوتھ پالیسی نوجوانوں کی رہنمائی اور کامیاب منازل کی جانب سمتی تعین میں اہم سنگ میل ہے۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے قومی اسمبلی میں بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنے صوبے کو یوتھ پالیسی کی صورت جو تحفہ دیا ہے اس سے نا صرف بلوچستان کے نوجوانوں میں انکی سیاسی قدر و قابلیت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ مستقبل قریب میں اس یوتھ پالیسی کے ثمرات بلوچستان کے نوجوانوں کو معاشی بحالی اور بہترین مواقع کی دستیابی کی صورت حاصل ہونگے۔
ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینیجمینٹ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر خالد حفیظ نے محترمہ نوشین افتخار اور نوابزادہ جمال رئیسانی کی قیادت میں ینگ پارلیمنٹیرین فورم کے زیر اہتمام اراکین قومی اسمبلی کی بیوٹمز آمد پر تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کے بلوچستان یوتھ پالیسی پر حقیقی معنوں پر عملدرآمد نوجوانوں کی معاشی اور سماجی ترقی کا ذریعہ بنے گی جس سے نوجوانوں اور حکومت کے درمیان ربط اور ہم آہنگی بہتر ہو سکے گی۔
ینگ پارلیمنٹیرینز فورم کی چیئر پرسن نوشین افتخار،جنرل سیکریٹری نوابزادہ جمال ریسانی سمیت اراکین قومی اسمبلی محمد سعد اللہ، محمد مقداد علی خان، راجہ اسامہ سرور، محترمہ اختر بی بی محترمہ شائستہ خان، محمد عثمان بادینی اور راجہ محمد علی شامل تھے۔ وائس چانسلر بیوٹمز ڈاکٹر خالد حفیظ نے ینگ پارلیمنٹیریتنز فورم کے وفد کا بیوٹمز آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وائی پی ایف کی قیادت کی بیوٹمز میں طلبہ کے ساتھ اس تقریب میں شرکت نوجوانوں کی پالیسی سازی اور قومی گفتگو میں شرکت کے عمل کو تقویت بخشے گی،
انہوں نے کہا کے پالیسی سازی میں نوجوانوں کا کردار اور شراکت داری نوجوان نسل اور حکومت کے درمیان خلیج کو ختم کرے گی۔ڈاکٹر خالد حفیظ نے بیوٹمز کے اساتذہ اور افسران کو بلوچستان یوتھ پالیسی کے متعلق اور اس پالیسی میں نوجوانوں کے کردار پر آگاہی مہم اور خصوصی سیشنز منعقد کرنے کی ہدایات جاری کیں تاکہ نوجوانوں تک جلد ازجلد پالیسی اور عمل درآمدکے متعلق آگاہی پہنچ سکے۔