پاک امریکہ تعلقات میں بہتری آنے سے ملکی معیشت پر مستقبل میں مثبت اثرات مرتب ہونگے۔
پاک امریکہ حالیہ تجارتی معاہدوں کے حوالے سے بات چیت مثبت طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے۔
سیکریٹری تجارت جاوید پال کی قیادت میں واشنگٹن میں 4 روزہ دورہ بھی کامیابی سے مکمل ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایک مفاہمتی معاہدہ طے پایا جو پاکستانی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل اور زرعی مصنوعات پر امریکی محصولات میں نرمی سے متعلق ہے ۔
اس معاہدے سے پاکستانی مصنوعات پر 29 فیصد اضافی ٹیرف کا خطرہ ٹل سکتا ہے جو پاکستانی معیشت کے لیے اہم ہے۔
مذکورہ ٹیرف کی شرح جی ایس پی پلس نظام کے متبادل کے طور پر لاگو کی گئی تھی۔
جون کے مہینے میں پاکستانی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک کے درمیان ورچوئل میٹنگ میں ایک ہفتے تک معاہدہ مکمل کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔
اس معاہدے سے نہ صرف تجارت بڑھے گی بلکہ کان کنی، توانائی اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے مواقع بھی کھلیں گے۔ دوطرفہ معاہدے میں زیرو ٹیرف، کرپٹو تعاون اور نایاب معدنیات جیسے امور بھی شامل ہیں جو دوطرفہ معاشی شراکت داری کو مضبوط کریں گے۔
تاہم اس معاہدے کا باضابطہ اعلان اس وقت ہوگا جب امریکا اپنے دیگر تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مذاکرات مکمل کرلے گا۔ یہ معاہدہ پاکستان کے لیے اہم ہے کیونکہ 2024 میں پاکستان نے امریکا کو 5.1 ارب ڈالر کی برآمدات کیں اور نئے امریکی ٹیرف پالیسیوں سے یہ برآمدات خطرے میں تھیں۔
اس معاہدے سے پاکستانی معیشت کو استحکام مل سکتا ہے۔
موجودہ حکومت اور عسکری قیادت کی جانب سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کیلئے انتھک کوشش کی گئی جس کے بہت ہی مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ہونے والی ملاقات نے دونوں ممالک کو بہت قریب لایا ہے خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو بہت سراہا گیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خطے میں استحکام اور ایران کے ساتھ مکالمے میں ثالث کا کردار ادا کرنے پر پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے پاک امریکا وزرائے خارجہ ملاقات کا اعلامیہ جاری کیا ہے جس کے مطابق وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق پاکستان کا ایران کے ساتھ مکالمے میں ثالث کا کردار قابل تعریف ہے، پاکستان نے خطے میں استحکام کے لیے کردار ادا کیا۔
امریکی محکمہ خارجہ کا بتانا ہے کہ اسحاق ڈار مارکو روبیو ملاقات میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دوطرفہ تعاون بڑھانے پربات ہوئی، داعش خراسان کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اگست میں اسلام آباد میں پاک امریکا انسداد دہشت گردی مذاکرات ہوں گے۔
وزرائے خارجہ کی ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا گیا، ڈار روبیو ملاقات میں معدنیات اور مائننگ سیکٹر میں تعاون کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تھی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
ملاقات کے بعد وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان امداد نہیں امریکا کے ساتھ تجارت کرنا چاہتا ہے اور امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ آئندہ چند ہفتوں میں طے ہو جائے گا۔
اسحاق ڈار کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان بھارت سے بھی مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت تمام معاملات پر بات کرنا چاہتا ہے، ہم دہشت گردی پر بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
بہرحال پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدوںسے ملکی معیشت میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔
معاشی ماہرین پاک امریکہ تعلقات کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں جن کے مطابق درآمدی اور برآمدی آئٹمز جن پر ٹیرف کی نئی شرح کا اطلاق ہو گا ان کی نشاندہی ہو گئی ہے۔
امریکا کی پالیسی تو یہ رہی ہے کہ آپ ہماری شرائط مانیں یا چھوڑ دیں لیکن پاکستان اس انتظار میں ہے کہ امریکا ہمارے جیسے دیگر ممالک مثلاً بنگلہ دیش اور ویت نام وغیرہ کو خاص طور پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں کیا ریٹ دیتا ہے کیونکہ امریکا کو کی جانے والی پاکستانی برآمدات میں زیادہ حصہ ٹیکسٹائل کا ہے۔
اگر ان ممالک کو ہم سے کم ٹیرف ریٹ ملا تو ہم اس سلسلے میں بات کریں گے۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ پاکستان کو چین اور آسیان ممالک سے 5 فیصد کم ریٹ ہی مِل رہا ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستانی ٹیکسٹائل اور دیگر مصنوعات امریکا میں چین کی نسبت 5 فیصد کم مہنگی ہوں گی۔
دوسرا یہ کہ دنیا بھر کے ممالک کی امریکا کے ساتھ تجارت متاثر ہونے سے پاکستان کے لیے تجارت بڑھانے کا موقع بن رہا ہے۔
پاکستان ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے جس سے تجارت کو وسعت ملے گاجو ہمیں معاشی تنزلی سے نکلنے میں مدد دے گی۔