غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے 40 ہزار سے اموات ہوچکی ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ معذور ہوئے ہیں غذائی خوراک سمیت دیگر چیزوں کی قلت کے باعث انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے اسرائیل غزہ پر اپنا قبضہ چاہتا ہے ،اپنے مذموم مقاصد کیلئے غزہ پر انسانیت سوز حملے کررہا ہے اور غزہ میں مکمل تباہی پھیلا دیا ہے، نہتے فلسطینیوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں، عالمی برادری اور اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کی جانب سے غزہ میں انسانی بحران پر شدید تنقید اور تحفظات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کا مطالبہ کیا جارہا ہے مگر آئے روز غزہ میں سینکڑوں شہادتیں ہورہی ہیں، اسرائیل کی نیت میں جنگ بندی اور امن شامل نہیں وہ طاقت کے بل بوتے پر غزہ پر اپنا تسلط چاہتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے یہ توقع اور امید کی جارہی تھی کہ جلد غزہ میں جنگ بندی کے حوالے سے فریقین کے درمیان بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائے گا تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہوسکے مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر حماس کو ہی امن دشمن قرار دیا جو کہ زیادتی ہے۔
اسرائیلی بربریت کے خلاف تل ابیب، امریکہ، یورپ سمیت دیگر ممالک کے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں اور اسرائیل سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ حماس جنگ بندی نہیں چاہتی، ان کے لیڈروں کا شکار کرکے نجات حاصل کرنا ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ حماس غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کی خواہاں نہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے غزہ سے بہت سے یرغمالیوں کو نکال لیا ہے اور جب آخری یرغمالی بھی نکال لیا جائے گا تو حماس کو معلوم ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا، اسی لیے وہ مذاکرات سے پیچھے ہٹ گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اب حماس سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور اس کے لیڈروں کا شکار کیا جائے گا، ٹرمپ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حماس کے لوگ مرنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور اسرائیل نے مصر اور قطر کی ثالثی میں دوحہ میں ہونے والے غزہ جنگ بندی مذاکرات سے اپنے وفود واپس بْلا لیے تھے۔
اس حوالے سے امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے دعویٰ کیا تھا کہ ثالثوں نے بہت کوشش کی لیکن حماس کی نیک نیتی اور غزہ جنگ بندی کی خواہش نظر نہیں آئی۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے غزہ میں جنگ بندی سے متعلق امریکی حمایت یافتہ تجاویز پر اپنا باضابطہ جواب ثالثوں(قطر اور مصر) کو جمع کرادیا تھا۔
ثالثین گزشتہ 2 ہفتوں سے زائد عرصے سے دوحہ میں اسرائیلی اور حماس کے وفود کے درمیان مذاکرات میں مصروف رہے لیکن مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب اسرائیلی پارلیمنٹ نے مغربی کنارے میں اسرائیلی خودمختاری کی مجوزہ درخواست کی منظوری دے دی۔
حماس نے اسرائیلی پارلیمنٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا ہے۔
بہرحال امریکہ کو جنگ بندی پرزور دینا چاہئے ،طاقت کے زور پر غزہ پر قبضے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا ،فلسطینی مزاحمت کم وسائل اور طاقت کے باوجود بھی جاری ہے فلسطینی اپنا دفاع کررہے ہیں ،اگر اس جنگ میں مزید شدت لائی گئی تو یہ جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل جائے گی جس سے بڑی تباہی ہوگی لہذا بات چیت کے ذریعے ہی جنگ بندی اور امن قائم ہوسکتا ہے۔
غزہ پر اسرائیلی قبضہ، امریکہ کا حماس کو دھمکی، مشرق وسطیٰ میں جنگ کیخوفناک اثرات!
![]()
وقتِ اشاعت : July 28 – 2025