|

وقتِ اشاعت :   July 29 – 2025

پاکستان اور آسٹریلیا نے معدنی وسائل کے شعبے میں باہمی تعاون کے نئے دروازے کھول دئیے ہیں جس میں ریکو ڈیک منصوبے کی ترقی اور پاکستان اسٹریٹجیک انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے کلیدی کردار پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے تازہ مذاکرات میں توانائی، معدنیات اور آبی وسائل کے انتظام میں اقتصادی شراکت داری پر اتفاق رائے ہوا ہے۔
پاکستانی وفد کی قیادت کرنے والے وزیر توانائی نے آسٹریلیا کی کان کنی کی مہارت سے استفادہ کرنے پر زور دیتے ہوئے ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
اس موقع پر آسٹریلیا نے پاکستانی اداروں کے لیے معدنیات کے شعبے میں جدید تربیتی پروگرامز کی پیشکش کی جو ملک میں کان کنی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔
ریکوڈک منصوبے کو اس شراکت داری میں مرکزی اہمیت حاصل ہے، جہاں 65 ارب ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں۔
ان میں 2 ارب ٹن تانبے اور 20 ملین اونس سونے کے وسیع ذخائر شامل ہیں جو ملکی معیشت کو نئی راہیں دکھا سکتے ہیں۔
ایس آئی ایف سی نے آسٹریلیائی کمپنیوں کے لیے کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس شراکت داری کے تحت ایس آئی ایف سی کی معاونت سے کان کنی کے شعبے میں مشترکہ منصوبوں کے لیے کاروبار دوست ماحول کو فروغ دیا جائے گا، جس سے نہ صرف بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے گا بلکہ ملک میں معدنی وسائل کے موثر استعمال کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
یہ قدم پاکستان کی معاشی ترقی میں معدنی شعبے کے کردار کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے اس میں سونا، تانبا، کوئلہ، نایاب زمینی عناصر اور دیگر کریٹیکل منرلز جو قابل تجدید توانائی کی منتقلی کے لئے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں وافر مقدار میں موجود ہیں۔
بہرحال ریکو ڈک منصوبہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ عالمی سطح پر توانائی اور معدنیات کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
ریکو ڈک تانبے اور سونے کے ذخائر کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر انتہائی اہمیت رکھتا ہے، منصوبے سے اہداف کے حصول اور معاشی مستقبل کو محفوظ بنانے کے ساتھ ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔
ملک میں کان کنی کے شعبے کو فروغ دینے کیلئے موثر حکمت عملی بنانے کے ساتھ اس شعبے کو ترقی اور فروغ دینے کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
پاکستان معدنیات کے حوالے سے دنیا میں ایک اہم مقام رکھتا ہے ،بیرونی کمپنیوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور مشترکہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے راغب کرنا چاہئے۔
اس وقت حکومت پاکستان اور ایس آئی ایف سی بین الاقوامی کمپنیوں کو ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہیں تاکہ پاکستان کے وسیع معدنی ذخائر کو بروئے کار لایا جا سکے۔
پاکستان میں معدنیات کے شعبے میں بے پناہ مواقع ہیں، ریکو ڈک میں دنیا کے سب سے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر موجود ہیں اس منصوبے میں دنیا کی بڑی کمپنیاں دلچسپی لے رہی ہیں ،یہ منصوبہ مستقبل میں ملکی معیشت میں مرکزی کردار ادا کرے گا جو بلوچستان سمیت ملک میں معاشی ترقی اور خوشحالی کا سبب بنے گا۔