بلوچستان کے مسائل دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ ہیں جس کی مختلف وجوہات ہیں ایک تو بلوچستان رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جبکہ اس کی آبادی منتشر ہے۔
ایسے خطے میں بنیادی سہولیات سمیت دیگر مسائل حل کرنا آسان نہیں اس کیلئے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
صوبائی حکومت سمیت اپوزیشن اراکین کی سنجیدہ کوششوں سے مسائل کو کم کیا جاسکتا ہے۔ تمام اراکین کو فنڈز اس بنیاد پر فراہم کئے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے حلقے کے مسائل حل کریں جس میں لوگوں کی بنیادی ضروریات خاص کر شامل ہیں۔
بلوچستان میں سڑکوں کی تعمیر، پانی کی سہولت، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی بہتری، سیوریج نظام کی بہتری سے عوام کی مشکلات میں کمی لائی جاسکتی ہے جس کیلئے اراکین صوبائی و قومی اسمبلی کو اپنے حلقوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے منظور شدہ اسکیموںپر اس وقت خصوصی توجہ دی جارہی ہے تاکہ عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت پی ایس ڈی پی (پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام) پر عملدرآمد سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اہم اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور جماعت اسلامی کے نمائندے شریک تھے جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری برائے ترقیات و منصوبہ بندی زاہد سلیم نے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ منظور شدہ ترقیاتی اسکیموں پر فوری عملدرآمد ناگزیر ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ 65 کروڑ روپے تک مکمل فنڈنگ حاصل کرنے والی اسکیمیں فروری 2026 تک ہر صورت مکمل کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے مشاورت اور منصوبہ بندی مارچ 2026 سے قبل مکمل کر لی جائے گی تاکہ ترقیاتی عمل کو شفاف، مؤثر اور بروقت بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ پی سی-
ون صرف مکمل تخمینہ لاگت کی بنیاد پر منظور کیا جائے گا اور مرحلہ وار تخمینے ناقابل قبول ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ دستیاب وسائل کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل ہی فوری اور مؤثر عملدرآمد کو ممکن بنائے گی۔
میر سرفراز بگٹی نے ترقیاتی عمل میں شفافیت، رفتار اور معیار کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ منتخب عوامی نمائندوں کی مشاورت سے شفافیت میں مزید بہتری آئے گی۔
مفاد عامہ سے متعلق اراکین اسمبلی کی تجاویز ترقیاتی ترجیحات کا حصہ بنائی جائیں گی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر اسکیم کی بروقت تکمیل عوامی اعتماد کی بحالی کی ضمانت ہے۔
تمام اہم اسکیموں پر تیز رفتار پیش رفت کی مؤثر نگرانی کی جائے گی اور کسی بھی مرحلے پر بدانتظامی یا بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔
[بہرحال بلوچستان کی ترقی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور پائیدار ترقی کے لیے سیاسی اتفاق رائے اور انتظامی سنجیدگی ناگزیر ہے۔
بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل سے لوگوں کا اعتماد حکومت پر بحال ہوگا ،اسکیمات میں تاخیری حربے پر سخت ایکشن لینا ہوگا تاکہ بدعنوانی و کرپشن کا راستہ روکا جاسکے اور اسکیمات کی لاگت میں اضافہ نہ ہو کیونکہ یہ کرپشن کرنے کی ایک واردات ہے،
اسکیمات میں تاخیری حربوںسے کروڑوں روپے خرد برد کیے جاتے ہیں یہ سلسلہ کئی برسوں سے چل رہا ہے مگر موجودہ حکومت کی جانب سے عوامی مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں واضح دکھائی دے رہی ہیں جس کی نگرانی وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی خود کررہے ہیں ،ہر اجلاس میں قیام امن سمیت ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ لے رہے ہیں جہاں خامیاں دکھائی دے رہی ہیں اس کا نوٹس لیکر انہیں حل کررہے ہیں جو کہ قابل ستائش اقدام ہے ۔
امید ہے کہ موجودہ حکومت بلوچستان کے بیشتر مسائل حل کرنے کیلئے اپنا کردار اسی جذبے سے ادا کرے گی اور ترقی کے اس عمل کو جاری رکھے گی جس سے عوام مستفید ہوں۔