کوئٹہ: بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر عاشق حسین اور مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے نائب صدر ولایت حسین جعفری نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ نے ہمیں اعتماد میں لئے بغیر ایک ٹوئٹ پر سیکورٹی کو ایشو بناکر بلوچستان کے راستے جانے والے زائرین کو اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا
جس کی ہم مذمت کرتے ہیں اور اس غلط فیصلے کو نہیں مانتے اب تک کوئٹہ میں 5 ہزار سے زائد زائرین پھنسے ہوئے ہیں اپنے مطالبات کی منظوری تک ہمارا پر امن احتجاج جاری رہے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ کے فیصلے کیخلاف دیئے جانے والے احتجاجی دھرنے کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے آنے اور کوئٹہ بلوچستان کے راستے تفتان سے ایران جانے والے زائرین کو اجازت نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے زائرین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ایرانی قونصلیٹ کی جانب سے زائرین کو ویزے جاری نہیں کیے جارہے ایرانی حکومت کو تحریری طور پر ویزوں سے متعلق درخواست دے چکے ہیں
اور ہمارا ایران حکومت سے بھی مطالبہ ہے کہ زائرین کے ویزوں کے اجراء کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے زائرین کو سکیورٹی فراہم کرنا حکومت کی ذمہ درای ہے امن و امان کا مسئلہ اب سے نہیں گزشتہ کئی عرصے سے ہے اسے جواز نہیں بنایا جاسکتااور ہوئی جہاز کا سفر عام اور متوسط طبقے کی دسترس میں نہیں مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی نائب صدر ولایت حسین جعفری نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے ہمیں اعتماد میں لیے بغیر فیصلہ ایک ٹویٹ کے ذریعے کیا ہے اگر سیکورٹی کے مسائل تھے تو ہمیں پہلے کیوں نہیں آگاہ کیا گیا
مطالبات کی منظوری تک ہمارا پر امن احتجاجی دھرنا جاری رہے گایہ غلط بیانی کی جارہی ہے کہ زائرین جاکر واپس نہیں آتے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے زائرین کی تعداد پانچ ہزار ہے اب تک دیگر علاقوں سے آئے ہوئے زائرین کی تعداد پانچ ہزار ہے اور انہیں مذہبی زیارت کے لئے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے ہمیں شدید لاحق ہے ۔