کوئٹہ: کوئٹہ کی رہائشی رحیمہ بی بی نے کہا ہے کہ میرے شوہر صدام حسین کو سیکورٹی اہلکاروں نے بغیر وارنٹ کے گھر پر چھاپہ مار کر آنکھوں پر پٹی باندھ کر حراست میں لیکر ساتھ لے گئے۔
اس حوالے سے کئی بار کیچی بیگ تھانہ مقدمہ درج کرنے گئی لیکن مقدمہ درج نہیں کیا جارہا ہے اور نہ معلومات فراہم کی جارہی ہے۔
حکومت اور اداروں سے مطالبہ ہے کہ صدام حسین نے اگر کوئی جرم کیا تو منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کیا جائے بصورت دیگر رہا کیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو عدالت روڈ پر قائم لاپتہ افراد کے کیمپ میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ 18 اور 19 جولائی کے درمیانی شب کالی وردیوں میں ملبوس سیکورٹی کے 15 سے 20 مسلح اہلکاروں نے ہمارے گھر واقع کلی حبیب، فیض آباد کوئٹہ پر بغیر وارنٹ چھاپہ مارا اور میرے شوہر صدام حسین کرد کو میری آنکھوں کے سامنے سے حراست میں لیکر اپنے ساتھ لے گئے فورسز نے میرے اور میرے شوہر کے موبائل بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے ان سے پوچھا کہ میرے شوہر کو کدھرلے جارہے ہو تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ انہیں ان کے خلاف کچھ شکایت موصول ہوئی ہیں وہ ان سے تشویش کرینگے اور بعد میں اسے چھوڑ دینگے لیکن وہ تا حال زیر حراست ہے۔
اس حوالے سے میں تین بار کیچی بیگ تھانہ گئی لیکن ایس ایچ او نے میرے شوہر کا ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا اس کے بعد میں ایس پی سریاب کو درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
میرے شوہر کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے میں اور میرا خاندان شدید ذہنی کوفت کا شکار ہوکر رہ گئے ہیں۔ میں حکومت اور ملکی اداروں کے سربراہوں سے اپیل کرتی ہوں کہ میرے شوہر پر کوئی الزام ہے تو اسے منظر عام پر لاکر عدالت میں پیش کرکے صفائی کا موقع فراہم کیا جائے اگر بے قصور ہے تو رہا کیا جائے۔ اگر صوبائی حکومت سے جبری گمشدگیوں کے حوالے سے پاس ہونے والے حالیہ آرڈیننس کے تحت تفتیش کے لئے حراست میں لیا گیا ہے تو اس بھی مجھے معلومات فراہم کیا جائے تاکہ خاندان میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے۔