|

وقتِ اشاعت :   August 2 – 2025

کوئٹہ: جمعیت علما اسلام نظریاتی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالقادرلونی، صوبائی جنرل سیکرٹری حافظ عبدالاحد کبدانی، نائب امیر سید حاجی عبدالستارشاہ چشتی، صوبائی سرپرست مولنا خدائینظر، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حاجی عبیداللہ حقانی، جوائنٹ سیکرٹری میر مبارک محمدحسنی، سرپرست مولنانعمت اللہ نے کہا کہ بلوچستان میں سالانہ چار لاکھ گیلن شراب کی فروخت سے اسلامی اقدار اور روایات کا جنازہ نکال دیا۔ شراب نوشی اور شراب خانوں سے شراب کی کھلی عام فروخت سے جرائم بدامنی اور معاشرتی خرابیاں عروج پرہے

اقلیتوں کامحض نام استعمال کیا جاتاہے، جبکہ حقیقت میں ان کے نام پر مسلم آبادی میں شراب کا کاروبار چمکتا اور پروان چڑھتا جارہاہے لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی حکومت اور انتظامیہ اس کے لیے سہولت کاربنی ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ شراب تمام مذاہب میں حرام ہے

جھوٹ سے اقلیتوں کے پرمٹ کی آڑ میں شراب سرعام فروخت ہورہی ہے رشوت کے لیے بڑے بڑے ہوٹلوں میں شراب کی فروخت کی اجازت مل رہی ہے بلکہ انتظامیہ ہوٹلوں کو مکمل تحفظ بھی فراہم کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ شراب اور عارضہ قلب سمیت 200 بیماریاں ہونے کا خطرہ بڑھ رہے ہے

منظم منصوبہ بندی کے تحت ہمارے نوجوانوں کی زندگیاں منشیات اور بے حیائی اور عریانی سے تباہ کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت فحاشی وعریانی پر خاموشی سے اللہ تعالی کے غیض و غضب کو دعوت نہ دی جائے شراب خانوں پر پابندی لگائے