کراچی: وفاقی حکومت کی جانب سے شوگر مافیا کے خلاف کریک ڈائون کے باوجود سرکاری قیمت پر چینی کی فروخت شروع نہ ہوسکی ہے، ریٹیل اور ہول سیل مارکیٹوں میں چینی کی قیمت میں بڑا تضاد سامنے نظر آرہا ہے۔
وفاقی وزارت فوڈ سیکیورٹی کے فارمولے کے تحت اگست میں چینی کی فی کلو ایکس مل قیمت اگرچہ 165روپے سے بڑھ کر 167روپے کی سطح پر آگئی ہے لیکن ہول سیل مارکیٹ میں ایکس مل فی کلوگرام چینی 169روپے میں سپلائی کی جارہی ہے۔
سرکاری سطح پر فی کلو گرام چینی کی ہول سیل قیمت 170روپے ہے مگر ہول سیل میں چینی 172روپے میں فروخت ہورہی ہے۔ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین رئوف ابراہیم کے مطابق ریٹیل مارکیٹ میں فی کلوگرام چینی ہول سیل مارکیٹ کے مقابلے میں 10روپے زیادہ ہے،
ریٹیل مارکیٹ میں فی کلوگرام چینی کی قیمت فروخت 182روپے سے 200روپے کے درمیان ہے۔رئوف ابراہیم کے مطابق کمشنر کراچی نے ریٹیل مارکیٹ میں فی کلو چینی کا دام 173 روپے مقرر کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ کریک ڈائون کے بعد ہول سیل مارکیٹوں میں چینی وافر مقدار میں موجود ہے اور شوگر ملز مالکان کی جانب سے بھی ترسیل بحال ہے لیکن شوگر ملز اگست کے لیے مقررہ 167روپے میں فی کلو چینی کی سپلائی نہیں کررہی ہیں۔رئوف ابراہیم نے کہا کہ شوگر ملز اگر مقررہ سرکاری قیمت پر چینی کی ایکس مل قیمت پر فروخت کریں تو ہول سیل میں فی کلوگرام چینی 2روپے مزید سستی ہوجائے گی۔دوسری جانب چینی کی قیمتوں میں استحکام اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے حکومت نے دو لاکھ ٹن چینی کی درآمد کا حتمی آرڈر دے دیا ہے۔
ترجمان وزارت غذائی تحفظ کے مطابق چینی کی درآمد ٹینڈر کھلنے کے بعد حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے ۔
درآمد شدہ چینی کی پہلی کھیپ ستمبر کے اوائل میں پاکستان پہنچے گی ۔
اس کا مقصد مارکیٹ میں چینی کی دستیابی یقینی بنانا اورقیمتوں میں توازن برقرار رکھنا ہے ۔ متعلقہ حکومتی کمیٹی نے بین الاقوامی مارکیٹ میں خریداری کے وقت ڈسکانٹ بھی حاصل کیا۔درآمد شدہ چینی کی آمد سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں توازن آئے گا ۔ حکومت کے اس فیصلے سے صارفین کو براہ راست فائدہ پہنچے گا ۔ادھروفاقی حکومت نے شوگر ملز کو نومبر کے پہلے ہفتے میں کرشنگ شروع کرنے کی ڈیڈلائن دیدی۔ چینی کے خفیہ ذخائر کیخلاف کریک ڈائون کے احکامات بھی جاری کردیئے، خفیہ ذخائر میں ملوث شوگر ڈیلرز کیخلاف ایف آئی آرز درج کرنے کا حکم جاری کیا ہے ،
کرشنگ شروع نہ ہونے کی صورت میں 3 کے بجائے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کا پلان بنالیا۔وفاقی حکومت نے شوگر ملز کو نومبر کے پہلے ہفتے میں کرشنگ شروع کرنے کی ڈیڈ لائن دیدی۔
حکام کا کہنا ہے کہ چینی کے خفیہ ذخائر کے خلاف کریک ڈائون کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے ہیں۔
حکومت نے کرشنگ شروع نہ کرنے کی صورت میں 3 کے بجائے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کا پلان بنالیا۔
حکام نے بتایا کہ کرشنگ بروقت شروع نہ ہونے سے 2 لاکھ 60 ہزار ٹن چینی کی قلت کا خدشہ ہے، حکومت نے وزارت فوڈ کو 5 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کی اجازت دے رکھی ہے، نومبر کے پہلے ہفتے کرشنگ شروع ہوگئی تو 3 لاکھ ٹن چینی درآمد ہوگی۔
وزارت فوڈ حکام کے مطابق خفیہ اسٹاک کی تلاش کیلئے صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کر دی گئی، خفیہ ذخائر میں ملوث شوگر ڈیلرز کیخلاف ایف آئی آرز درج کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ حکومت نے چینی کے 19 لاکھ ٹن ذخائر کو کنٹرول میں لے لیا، خدشہ ہے چند شوگر ڈیلرز نے تاحال چینی کے خفیہ ذخائر رکھے ہوئے ہیںوفاقی حکام نے صوبائی حکومتوں کو کسی کا بھی لحاظ کیے بغیر کارروائیوں کی ہدایت کردی۔