پاکستان کی یوتھ میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے ہر شعبہ میں وہ اپنا لوہا منواتے آرہے ہیں ،اسپورٹس میں خاص کر نوجوانوں کی دلچسپی بہت زیادہ ہے۔
اگر فٹبال کی بات کریں تو پاکستان کے نوجوانوں میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ عالمی سطح پر بڑے ایونٹ میں بھی ٹائٹل جیت کر ملک کا نام روشن کرسکیں۔پاکستانی ٹیم بیٹر فیوچر پاکستان نے ناروے کپ میں انڈر 15 کا ٹائٹل جیت لیا، فائنل میں بیٹر فیوچر پاکستان نے ناروجیئن کلب کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔
ناروے کپ میں انڈر 15 ایونٹ میں شریک بیٹر فیوچر پاکستان کی ٹیم لیاری کے کھلاڑیوں پر مشتمل تھی۔
بیٹر فیوچر کی ٹیم پورے ٹورنامنٹ میں ناقابلِ شکست رہی اور ہر میچ میں حریف کو آئوٹ کلاس کرتے ہوئے ٹرافی اپنے نام کی۔
فائنل میں اس نے ناروے کے کلب یووک لین کو 2-0 سے شکست دی، بیٹر فیوچر کی جانب سے دونوں ہاف میں ایک، ایک گول ہوئے، ٹیم کی جانب سے ایک گول احمد علی اور دوسرا گول اویس نے اسکور کیا۔ ناروے میں ہونے والے دنیا کے سب سے بڑے یوتھ فٹبال ٹورنامنٹ میں دنیا کے 30 سے زائد ملکوں سے سیکڑوں ٹیمیں مختلف ایج گروپس میں شریک تھیں۔
یہ ملک کیلئے بڑا اعزاز ہے کہ ان نوجوانوں نے ناروے ٹائٹل جیت کر دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا ہے۔
ماضی میں پاکستانی فٹبال ٹیم نے ایشیاء کے بڑے ممالک کو نہ صرف شکست دی بلکہ اس کے کھلاڑی ہندوستان، بنگلہ دیش کے کلبوں میں بھی بڑے معاوضے لیکر کھیلتے رہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں فٹبال کو دیگر کھیلوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت نہیں دی گئی ، حکومتی سطح پر ایک تو خصوصی توجہ نہیں دی جاتی ،دوسرا سفارشی کلچر اور فٹبال کے محکموں کی بندش سے فٹبال کا کھیل زوال پذیر ہوتا گیا جس کی وجہ سے بیشتر فٹبالرز مایوس ہوئے مگر اب ایک بار پھر فٹبال کے میدان آباد ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ،نوجوانوں کی اکثریت اس کھیل میں جنون کی حد تک دلچسپی لے رہی ہے جس کے نتائج بھی سامنے ہیں کہ ناروے جیسے بڑے ملک میں پاکستان کی انڈر 15 فٹبال ٹیم نے ٹائٹل جیت کر یہ ثابت کیا کہ ہمارے فٹبالر عالمی سطح پر بہترین نتائج دینے کے قابل ہیں۔
یہ حکومت کو سوچنا چاہئے کہ ہمارے نوجوان جب یورپ سے ٹائٹل جیت کر لاسکتے ہیں تو ایشیاء کپ، ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹس میں کس طرح کے نتائج لاسکتے ہیں کیونکہ ہمارے نوجوانوں نے اپنے کھیل سے ثابت کیا کہ وہ دنیا کے بڑے کلبوں کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، حکومت کو ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کیلئے نقد انعام کا اعلان کرنا چاہئے ،مستقبل کیلئے فٹبال کے محکموں کی بحالی، میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے ، فٹبال کھیل پر سرمایہ کاری کریں اس سے فٹبال کے کھیل کو فروغ ملے گا۔
ہمارے فٹبالرز دنیا کے بڑے کلبوں کا حصہ بنیں گے جس سے زرمبادلہ کی صورت میں بڑی رقم قومی خزانے کو ملے گی ،غریب فٹبالرز کی زندگیوں میں بھی تبدیلی آئے گی ،نوجوان مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب ہونگے جو کہ موجودہ حکومت کا اپنا وژن بھی ہے۔
امید ہے کہ حکومتی سطح پر فاتح نوجوانوں کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کو مستقبل کیلئے قومی ٹیم کا حصہ بنانے کیلئے میرٹ پر ترجیح دی جائے گی اور فٹبال پر خصوصی توجہ کے ساتھ درپیش مسائل کو حل کیا جائے گاتاکہ ہمارے نوجوان فٹبالرز مستقبل میں دنیا کے میگا ایونٹس اپنے نام کرکے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کریں۔