|

وقتِ اشاعت :   August 4 – 2025

کوئٹہ: بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو نوٹسز جاری کردئیے،

پیر کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف دائر سینئر سیاستدان دان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی، سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد، بیرسٹر اقبال کاکڑایڈووکیٹ ، نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام، بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتونخواملی عوامی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی و دیگر کی جانب سے دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے درخواستوں کو سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کو نوٹسز جاری کردئیے۔

سماعت کے بعدہ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سینئر سیاست دان و سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے تحت بلوچستان کے لوگوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کیا جارہا ہے جب یہاں بین الاقوامی کمپنیاں آئیں گی تو بلوچستان کے لوگ اپنے حقوق سے محروم ہوجائیں گے، انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف ہر فورم پر جدوجہد کریں گے اور بلوچستان کے عوام کے تعاون اور قانونی ماہرین کی محنت کے نتیجے میں جیت بلوچستان کے عوام کی ہوگی۔

انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک سیاسی جماعتوں کو کوئٹہ آنے کی دعوت دی ہے آئندہ ماہ کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائیگی جس کا فوکس بلوچستان ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 12 مارچ 2025ء کو بلوچستان اسمبلی سے پاس ہوا 14 مارچ کو گورنر بلوچستان کے دستخط سے یہ صوبے میں نافذ العمل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کو منظور کرانے میں بلوچستان حکومت کی منشا شامل ہے حکومت نے صوبے کے وسائل کو وفاق کے حوالے کردیا ہے۔ق

بل ازیں سینئر قانون دان محمد ریاض احمد ایڈووکیٹ، راحب بلیدی ایڈووکیٹ، بیرسٹر محمدا قبال کاکڑ ایڈووکیٹ، سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ میں یہ ایک اہم پیشرفت ہے بلوچستان کی قد آور سیاسی شخصیت نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی اور بلوچستان کی سیاسی جماعتوں کی مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں دائر آئینی درخواستوں کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس روزی خان بڑیچ اور جسٹس سردار احمد حلیمی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے وفاق اور صوبائی حکومتوں کو نوٹسز جاری کردیئے ہیں، انہوں نے کہا کہ دوران سماعت انہوں نے اپنے دلائل عدالت عالیہ کے سامنے رکھتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وفاق بلوچستان کے معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

وکلاء رہنمائوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی سے بغیر کسی بحث کے یہ قانون منظور کیا گیا اور بہت سے اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ ان کو کوئی بل دکھایا اور اسمبلی سے کوئی اور بل پاس کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مائنز اینڈ منرلز ایکٹ سے متعلق صوبے کے لوگوں کو بہت سارے خدشات ہیں انہوں نے کہا کہ 2002ء کے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ میں بلوچستان کے عام شہری صرف پانچ لاکھ روپے لیز کیلئے جمع کراسکتا تھا اب اس کیلئے کروڑوں روپے کی شرائط رکھی گئی ہیں اب باہر کی کمپنیاں یہاں آکر کام کریں گی۔