|

وقتِ اشاعت :   August 4 – 2025

کوئٹہ/اسلام آباد : پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خا ن اچکزئی نے پارلیمنٹ پریس گیلری میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور پر عمران خان یاکسی بھی شہری جو پاکستان سے محبت کرتا ہے اور اسے21ویں صدی کا بہترین اقتصادی ملک بنانا چاہتا ہے

اُن سب کا ایجنڈا یہ ہے کہ پاکستان میں آئین کی حکمرانی ہوگی ،عوام کے صحیح ووٹ سے منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی، تمام داخلہ وخارجہ پالیسیاں منتخب پارلیمنٹ سے تشکیل ہوگی ۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان تمام پاکستان کی پارٹیوں سے اپیل کرتی ہے کہ بہت نقصان ہوچکا اور بڑی بربادی ہوچکی ہے ۔میاں نواز شریف صاحب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے تھے ، پیپلز پارٹی کہتی تھی کہ ہماری سیاست جمہوریت سوشلزم ، روٹی کپڑا مکان کا نعرہ لگاتی رہی ہے ،جماعت اسلامی ، جمعیت علماء اسلام ہم سب ملکر کم نکات ایک نیا معاہدہ کرسکتے ہیں اور پھر کسی بھی ادارے سے بات کرسکتے ہیں ۔

وہ آدمی پاگل ہوگا جو اپنے جوڈیشری ، افواج کا مخالف ہوگا ۔ آئین ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیںبلکہ عوام ،سیاسی پارٹیوں کے مابین سماجی معاہدہ ہوتا ہے ہم اُس سیاسی لیڈر ،جج ، جنرل کی مخالفت کرینگے جو آئین میں دیئے گئے دائرہ کار سے باہر نکلے گا۔ یہ ہمارا ایجنڈا ہے اور اسی پر 75سال سے پاکستان میں جھگڑا جاری ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان دنیا کا امیر ترین ملک ہوتے ہوئے بھی غریب ترین ملک ہے ۔

اس ملک میں معدنیات پر جس انداز میں لوگ حملہ آور ہورہے ہیں یہ پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہی ہیں ۔ پشتون ، بلوچ ، سرائیکی ، گلگتی ، پنجابی ، سرائیکی آپ سے کچھ نہیں مانگتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ میرے وطن میں اللہ پاک کی کچھ نعمتیں ہیں اس پر میرا بھی کچھ حق تسلیم کرلو اس کے بعد بیشک آپ امریکہ ، چین یا جس پر چاہے فروخت کرے۔

لیکن اپنے ہی لوگوں پر چڑھ دوڑنا یہ بربادی کا راستہ ہے ۔ ہم اپیل کرتے ہیں اس لیئے نہیں کہ عوام کمزورہے بلکہ اس لیئے کہ جو فیصلے خون سے کیئے جاتے ہیں وہ پھر پاکستان کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیگی ۔

محمود خان اچکزئی نے کہاکہ یہ ملک تب آباد ہوگا جب اس میں عوام کی حکمرانی ہوگی ، ہر ادارہ آئین کے فورم میں رہیگا پاکستان دن دگنی رات چگنی ترقی کریگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان کے مسائل بڑھے اور ہم چھوٹے لوگ ہیں ۔ بہت بڑی بربادی آنیوالی ہے ہمارے وسائل ہمارے گلے پڑے ہیں ۔

روس، چین ، ہندوستان ، اسرائیل پتہ نہیں کون کون؟ یہ ہمارے عقل کا امتحان ہے اگر ہم نے خدانخواستہ غلطی کی تو ہمارا یہ خطہ مست سانڈوں کی جنگ کا میدان بنے گا اور پھر کچھ نہیں بچے گا۔