|

وقتِ اشاعت :   August 5 – 2025

بھوربن،مری: پاکستان ادارہ برائے پالیمانی خدمات، اسلام آباد (PIPS) نے، یورپی یونین کے تعاون سے چلنے والے منصوبے “مستحکم پارلیمان” (MuP) کے اشتراک سے،

صوبائی اسمبلی بلوچستان کے چیئرپرسنز کی کونسل کا دو روزہ مشاورتی اجلاس 5 اور 6 اگست 2025 کو پی سی ہوٹل، بھوربن ، مری میں منعقد ہوا اجلاس کا موضوع “مضبوط کمیٹیاں و مضبوط قانون ساز ادارہ” تھا اس ورکشاپ کا بنیادی مقصد چیئرپرسنز کیکونسل کو قواعدِ کار میں بہتری اور اپنی ذمہ داریاں جماعتی وابستگی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر ادا کرنے کے بہترین طریقوں پر غور و فکر کا موقع فراہم کرنا تھا

ثمر اویس، ڈائریکٹر جنرل (پی ڈی پی)، PIPSنے معزز چیئرپرسنز اور ممتاز ماہرین کو خوش آمدید کہا انہوں نے شرکاء کو پروگرام کے مقاصد سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اس موضوع پر یہ دوسری ورکشاپ ہے اور پہلا پروگرام پنجاب اسمبلی کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

PIPS کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عاصم خان گورایہ نے اپنے اظہار خیال میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن عبدالخالق خان اچکزئی کی موجودگی کو سراہا اور کہا کہ ان کی ترقی پسند قیادت اور ادارہ جاتی سیکھنے سے وابستگی قابلِ تقلید ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا بھر میں قانون ساز کمیٹیاں خاموشی سے لیکن مؤثر انداز میں حکمرانی کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی آئی ہیں اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد، صوبائی سطح پر مالی و انتظامی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ گئی ہیں، اس لیے کمیٹی چیئرپرسنز کو بااختیار بنانا مؤثر احتساب اور خدمات کی بہتر فراہمی کے لیے ناگزیر ہے یورپی یونین کے وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے،

مستحکم پارلیمان کے قائم مقام ٹیم لیڈ اعزاز آصف نے ورکشاپ کے شرکاء کو خوش آمدید کہا انہوں نے یہ بھی کہا کہ منتخب نمائندے ایک اہم ذمہ داری کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ عوام اپنی مشکلات کے حل اور مسائل کے ازالہ کے لیے انہی کی طرف دیکھتے ہیں۔اپنے استقبالیہ خطاب میں معزز اسپیکر صوبائی اسمبلی بلوچستان، کیپٹن عبدالخالق خان اچکزئی نے PIPS اور مستحکم پارلیمان کا شکریہ ادا کیا

کہ انہوں نے اس اہم پروگرام کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا انہوں نے بتایا کہ صوبے میں مؤثر حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے اسمبلی کی کمیٹیوں کی جانب سے متعدد اقدامات پہلے ہی کیے جا چکے ہیں اس دو روزہ اجلاس کے دوران، شرکاء قانون سازی کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں کے کردار اور مؤثریت میں اضافے کے موضوع پر تفصیلی مشاورت میں حصہ لیں گے۔