اسلام آباد / کوئٹہ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سے بار بار آئین کے دفاع کا حلف لیا گیا ہے،
آج آئین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور آئین کو درخوراعتناع نہیں سمجھا جاتا، یہاں رہنے والی اقوام وعوام کے درمیان آئین ایک سماجی معاہدہ ہے اگر اس کو آپ پھاڑ دیتے ہیں پاکستان کی بنیادیں ہل جائیگی۔ ہم ہر ادارے سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان اور آئین کے بچا میں ہمارا ساتھ دیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جب میاں محمد نواز شریف صاحب، مریم نواز جیل میں تھے مجھ سمیت بیسوں لوگ ملنے جاتے تھے اس وقت یہ سپیکر سردار ایاز صادق بھی ان ملاقاتیوں میں شامل ہوتا تھا۔
جو خود کو کسٹوڈین آف دی ہاس سمجھتا ہے۔ ان دنوں انہوں نے سپیکر کی حیثیت سے اعلان کیا کہ پنجاب سے فلاں فلاں ایم این اے نے چالیس دن تک مسلسل غیر حاضری کی ہے آئین یااسمبلی رولز کے تحت اس ایم این اے کی ممبر شپ جاسکتی ہے
جس پر شور شرابا بھی ہوا۔ میں نے سردارایاز صادق کو مل کر مبارکباد پیش کیا اور کہا کہ بہت خوشی ہوئی کہ آپ کو اپنے اختیارات یاد آگئے۔ آج بھی آپ یہی اختیارات استعمال کرے آپ کی موجودگی میں آپ کے اسمبلی کی وردیوں میں لوگوں نے گھس کر ممبران کو گھسیٹ کر نکالا اورآپ نے اب تک اس پر کوئی عمل نہیں کیا۔
اگر آپ ہائوس آف دی کسٹوڈین ہے سپیکر ہے تو اس سارے ہاس کو ایک استحقاق کمیٹی میں تبدیل کردے اور اس19گریڈ کے آفیسر جیل سپرینٹنڈنٹ کو بلائیں وہ کرنل بنا بیٹھا ہے اور میرا سپیکر ایک حوالدارہے جو کرنل کو نہیں بلا سکتا۔ اور جب تک آپ یہ نہیں کرینگے تو ہم آپ کی یہ اسمبلی چلنے نہیں دینگے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہم ضیا الحق، مشرف کو برا بلا کہتے ہیں لیکن ان میں پھر بھی اتنی شرافت تھی کہ چار دیواری کے اندر سیاسی جمہوری لوگ جلسہ کرلیتے تھے۔
ضیا الحق اس کے نظام اور مارشلائی حکومت پر شدید تنقید ہوتی تھی۔بے نظیر بھٹو لاہور آئی لاکھوں کا اجتماع تھا لیکن پولیس آفیسر یا اہلکار نے حملہ نہیں کیا۔ لیکن یہاں عمران خان جو اس وقت ملک کا سب سے بڑا پاپولر لیڈر ہے اس سے ملنے ہم یم این ایز یا عمران خان کی بہنیں جیل جاتے ہیں
شدید دھوپ میں 12سے زائد گھنٹے کھڑے رہتے ہیں اور ملاقات کے لیے نہیں چھوڑا جاتا، ایسی اسمبلی کا کیا فائدہ آپ اسمبلی کا مذاق اڑارہے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے ایک محاورہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں سب خان کا نوکر ڈیڑھ خان بنے ہوئے۔
شہباز شریف سے کہتا ہوں کہ خدا کو مانو،آپ نے عوام کی طاقت نہیں دیکھی۔ غریب عوام جب بھپرجاتے ہیں حملہ آور ہوتے ہیں تو یہ وقت کے فرعون، نمرود کو گھر سے نکال کرفارغ کردیتے ہیں۔ اور ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم پاکستان کی عوام کو منظم کرنا ہے اور اس وقت تک جدوجہد کرینگے جب تک اس غیر آئینی، غیر قانونی، غیر جمہوری حکومت کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ ہم تمام جمہوری ججز، جرنیل، جرنلسٹ، دانشوروں، تمام سماجی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں
کہ یہ وقت پاکستان کو صحیح جمہوری راستے پرگامزن کرنے کا ہے۔ ہم پیپلز پارٹی، میاں نواز شریف، مولانا فضل الرحمن صاحب، جماعت اسلامی اورپاکستان کی تمام پارٹیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ چار سے پانچ ایسے نکات نکالیں کہ آئین بالادست ہوگا، ایک جمہوری پاکستان کی تشکیل ہوگی،پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگا،الیکشن کمیشن خودمختار ہوگا،
جو الیکن جیتے وہ حکومت حکمرانی کریگی، صحافت، عدلیہ کی آزادی میں مداخلت نہیں کرینگے ان نکات کو آپ لکھ دیں ہم سب دستخط کردینگے ایک دوسرے کو برا بلا نہیں کہینگے اور ہراساں نہیں کرینگے اور ایک دوسرے کو بھائی بندی کا ہاتھ دیکر پاکستان کوموجودہ بربادیوں سے نکالیں گے۔
اور اگر آپ یہ نہیں کرتے تو ہم مجبور ہیں گلی محلے میں احتجاج کرینگے اور اگر آپ نہیں چھوڑینگے، مارینگے، پیٹے گے اور پھر اگر ہماری یہ جمہوری تحریک جو عدم تشدد کی ہے آپ اسے مجبور کرینگے کسی اور طرف لیجائینگے تو ذمہ دار پھر آپ ہوں گے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آپ سندھ، پشتون، بلوچ وطن پرحملہ آور ہوئے ہیں۔
اگر کوئی چاہتاہے کہ سندھ، بلوچ، پشتون وطن کے معدنیات کو نکالیں تو پہلے اس پر وہاں کے بچوں کا حق تسلیم کیا جائے ہم آپ کے لیئے نکالیں گے اور پاکستان دن دگنی رات چگنی ترقی کریگا لیکن بندوق کے زور پرجو تماشا شروع کیا گیا خدانخواستہ اگر یہ چیز خانہ جنگی کی طرف گئی عوام اور اپنی افواج کے درمیان لڑائیاں چڑ گئی تو اس کے ذمہ دار شہباز شریف اور تمام ڈیڑھ خان ہوں گے۔