|

وقتِ اشاعت :   August 12 – 2025

سعودی عرب کے ساتھ طویل عرصے سے جاری سرمایہ کاری مذاکرات کی ناکامی کے بعد اب عالمی کمپنی بیرک مائننگ پاکستان میں تانبے کی کان کنی کے لیے امریکا اور دیگر بین الاقوامی قرض دہندگان سے ساڑھے تین ارب ڈالر تک کی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک بیرسٹو نے بتایا کہ بلوچستان میں اِس منصوبے کے لیے جی-7 ممالک پر مشتمل فنانسنگ پیکیج تیار کیا جا رہا ہے جس میں عالمی بینک، امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن، ایشیائی ترقیاتی بینک، جرمنی، کینیڈا اور جاپان کے قرض دہندگان شامل ہوں گے۔ 

برسٹو نے کہا کہ 9 ارب ڈالر کے اِس ریکو ڈیک منصوبے میں عالمی دلچسپی پائی جاتی ہے، اِس کے پہلے مرحلے کی لاگت کا تخمینہ 6.6 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

یہ منصوبہ 50 فیصد بیریک مائننگ کی ملکیت ہے اور بقیہ حصہ پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس ہے۔ 

بیرسٹو کے مطابق بیریک مائننگ کمپنی اور پاکستان دونوں 1.5 سے 1.8 ارب ڈالر تک سرمایہ لگائیں گے جبکہ باقی 3 سے 3.5 ارب ڈالر بین الاقوامی قرض دہندگان سے حاصل کیے جائیں گے۔ 

ریکو ڈیک کی پیداوار 2028 میں شروع ہونے کا امکان ہے۔