بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا نصف حصہ اور منتشر آبادی پر پھیلا ہوا خطہ ہے جہاں ترقی و خوشحالی کیلئے بہت زیادہ وسائلچاہئیں۔
بلوچستان کے مسائل کی ایک بڑی وجہ وفاقی بجٹ میں کم رقم ہے جبکہ ترقیاتی منصوبے بھی اتنے نہیں کہ جن سے مسائل پر قابو پایا جاسکے حالانکہ بلوچستان وسائل سے مالا مال خطہ ہے اورمیگا منصوبے بلوچستان میں چل بھی رہے ہیں جن سے وفاق کو بہت زیادہ محاصل مل رہے ہیں اور کمپنیاں بھی بہت زیادہ منافع کما رہی ہیں مگر بلوچستان کو آٹے میں نمک کے برابر بھی حصہ نہیں دیا جارہا۔
بلوچستان کے وسائل سے سب مستفید ہورہے ہیں مگر بلوچستان کو اس کا جائز حق تک نہیں مل رہا ،یہ دہائیوں کا مسئلہ ہے اس پر بلوچستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات بھی ہیں۔
بلوچستان میں بننے والی ہر حکومت کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ صوبے میں وہ زیادہ سے زیادہ عوامی مفاد کے منصوبے دے، بنیادی سہولیات سمیت صنعتی زون، ٹیکسٹائل، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں پر سرمایہ کاری کرے تاکہ بلوچستان میں موجود محرومیوں اورپسماندگی کا ازالہ ممکن ہوسکے۔
وفاقی حکومت بلوچستان کو سب سے زیادہ ترجیح دے ،بلوچستان کے نمائندگان کی شکایات کو سنجیدگی سے لے اور بلوچستان میں موجود چیلنجز کو حل کرنے کی کوشش کرے۔
موجودہ بلوچستان حکومت کی جانب سے صحت، تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں اصلاحات لائی جارہی ہیں، محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے پالیسیاں بنائی جارہی ہیں، ساتھ ہی ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھا رہی ہے مگر وسائل کم جبکہ مسائل بہت زیادہ ہیں اس لئے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کو فوقیت دینی چاہئے۔ 2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بلوچستان کو سب سے زیادہ پیکجز دیئے گئے جس میں آغاز حقوق بلوچستان، این ایف سی ایوارڈ کا اجراء ، صوبائی خود مختاری کے ذریعے اہم مسائل حل کرنے میں مدد دی۔
اب ایک بار پھر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز حیدر آباد میں میڈیا کے سامنے صوبوں کا مقدمہ سامنے رکھا،چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت سے فوری طور پر نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کا اجلاس بلا کر نیا این ایف سی ایوارڈ جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے صوبائی حکومتوں کو ذمہ داریاں دلوا دیں لیکن این ایف سی ایوارڈ وہی ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اپنی ناکامیوں کا بوجھ صوبوں پر نہ ڈالے، ایف بی آر کی ٹیکس اہداف حاصل کرنے میں ناکامی میں صوبوں کا کوئی قصور نہیں، یہ وفاقی حکومت اور ایف بی آر کو چلانے والوں کی ناکامی ہے۔
18 ویں ترمیم سے صوبوں کو جو ذمہ داریاں منتقل ہوئی ہیں ان کے وسائل بھی صوبوں کو دیے جائیں۔ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی حکومت میں ایک مرکزی اہمیت رکھتی ہے، وفاقی حکومت کے ساتھ ہر مسئلے پر کھڑی رہی ہے مگر جہاں صوبوں کے مسائل اور وسائل کا معاملہ آتا ہے تو موثر انداز میں صوبوں کیلئے آواز بلند کرتی ہے کیونکہ صوبوں کو ان کے حقوق دیکر ہی وفاق کومضبوط کیا جاسکتا ہے خاص کر بلوچستان کو اس وقت مالی حوالے سے وفاقی حکومت کی زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔
این ایف سی ایوارڈ کے اجراء سے بلوچستان حکومت کو مالی مشکلات سے نجات سمیت نئے ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل اور دیگر مفاد عامہ کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔
وفاقی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بلوچستان کے بجٹ میں نہ صرف اضافہ کرے بلکہ این ایف سی ایوارڈ کی رقم بھی بڑھائے تاکہ بلوچستان جیسے پسماندہ اور محروم صوبے میں ترقی اورخوشحالی کا عملی آغاز ممکن ہوسکے۔