|

وقتِ اشاعت :   August 14 – 2025

کوئٹہ/اسلام آباد: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ آج جن حالات میں پاکستان ہے اور ہم آزادی منارہے ہیں دنیا ئی شرم نہ ہوتی تو پورے پاکستان کو جشن آزادی سیاہ جھنڈوں سے منانا چاہیے تھا،آزادی کا مطلب سڑکیں،ریلوے،یونیورسٹیاں بنانا نہیں یہ تو انگریزوں نے بھی ہمیں دی۔

چمن سے لیکر کلکتہ تک ریلوے لائن تھا،اس وقت یہاں اور افغانستان کے فریش فروٹ کو برف رکھ کر کلکتہ پہنچایا جاتا تھا۔ بہترین سڑکیں،بہترین ریلوے، تعلیمی، پولیس کا نظام دیا گیا لیکن مجال کوئی بھی خان،نواب، جاگیردار، چوہدری کسی غریب کو نہیں چیڑھ سکتا تھا۔

78سال ہوگئے آج ہماری سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں۔ ریلوے لائنوں کو اکھاڑ کر پھینک دیا گیا۔ محمد علی جناح صاحب، گاندھی جی یا دیگرتحریکیں جنہوں نے آزادی کا مطالبہ کیا تھا تو انہوں نے انگریزوں سے نفرت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے وطن کا حق حکمرانی حاصل کرنے کے لیے آزادی مانگی۔

حق حکمرانی آئی لیکن غریب عوام تک آج بھی نہیں پہنچی۔ جشن آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ 21توپیں چلائیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور پشتونخوا کے عوام کی حق حکمرانی کو تسلیم کریں۔ سوویت یونین جب ٹوٹاتب بنیادی ہومین رائٹس کچھ تو کمزور تھی

لیکن روٹی،کپڑا، گھرکا مسئلہ حل ہواتھا سڑکیں، تعلیمی نظام سب ہونے کے باوجود درجنوں ملک علیحدہ ہوئے کیونکہ وہ حق حکمرانی چاہتے تھے۔ ہم بھی حق حکمرانی میں حصہ چاہتے ہیں پاکستان میں کسی بھی غریب کو روٹی کا مسئلہ نہ ہوکوئی بھی کسی غریب کو نہ چھیڑے۔

بین الاقوامی دنیا یہ کہتی ہے کہ پاکستان میں 47فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔یعنی انہیں صبح شام روٹی تک میسر نہیں۔ ان حالات میں عوام کو نکلنا ہوگا اور ہم لاکھوں لوگ اپنے طریقے سے نکالیں گے اور یہاں پھر لوگوں کو سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

5اگست کو پشتونخواملی عوامی پارٹی اور تحریک انصاف پشتون بلوچ صوبے کے چمن،سبی، ہرنائی، کوئٹہ، ژوب، زیارت سنجاوی، لورالائی، پشین، قلعہ سیف اللہ،شیرانی دیگر اضلاع میں ہزاروں لوگ نکلیں لیکن کسی نے کسی نہ پتھر مارااورنہ کسی کو گالی دی گئی اورپرامن احتجاج کیا گیا۔

یہاں لوگوں کو حکومت کا نشہ چڑھا ہوا ہے ان کے لیے انسانی زندگی کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ ایک خاندان چار گھنٹے تک منتیں کرتا رہا اور ان کے بچا کے لیے کوئی نہیں پہنچا درجنوں ہیلی کاپٹرز میں سے ایک بھی نہیں آیا اور کسی نے بھی اس واقعہ پر نہ معافی مانگی، نہ کسی نے استعفی دیا، نہ کسی نے تعزیت کی اور نہ متاثرہ خاندان کے لواحقین کے پاس گئے۔ محمود خا ن اچکزئی نے ہابرڈ نظام کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بین الاقوامی ادارہ کی رپورٹ یہ ہے کہ تقریبا 10کرورڑ عوام کو اس وقت صبح شام کی روٹی نہیں مل رہی پھر ہم کیا کررہے ہیں۔

ہابرڈ نظام کیا بڑے لوگوں، چوروں کے لیے ہیں؟ میں تو سارے پاکستان سے کہتا ہوں کہ 14اگست کو اپنے گلی محلوں میں نکلیں اور یہ نعرے لگائیں کہ گلی گلی میں شور ہے موجودہ حکومت چور ہے، جمہوریت زندہ آباد، آمریت مردہ آباد، تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور دیگر سیاسی قیدیوں کو رہا کرو۔ پتہ نہیں یہ کسی ہائبرڈ نظام کی بات کرتے ہیں۔ میں میڈیا کے ذریعے اپیل کرتا ہوں کہ آئیں ایک نیشنل ایجنڈے پر متفق ہو۔ میاں نواز شریف صاحب، پیپلز پارٹی،جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، اے این پی کے اکابرین سب اس پر متفق ہوں کہ یہاں جو عمرانی معاہدہ ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے وہ آئین جو ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے بنایا تھا ان سے اختلافات اپنی جگہ لیکن انہوں نے اس آئین کے بغیر قائم ملک کو آئین دیا۔

آصف علی زرداری صاحب میرے دوست ہے ان کے ساتھ اختلافات اپنی جگہ لیکن انہوں نے اٹھارویں ترمیم میں صوبوں کو بہت کچھ دیا۔ آئیں جو بھی پاکستان کے ساتھ محبت کرتا ہے سب ایک دوسرے کو معاف کریں۔ججز، جرنیل، جرنلسٹ، سیاستدان، دانشور سب بیٹھیں اور ان نکات پر کہ آئین بالادست ہوگا، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگی، الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں ہوگی زروزور کی بنیاد پر مداخلت نہیں ہوگی جو جیت تھا ہے وہ حکمرانی کریگا، ایک دوسرے کو ہراساں نہیں کرینگے،منتخب پارلیمنٹ سے داخلہ وخارجہ پالیساں تشکیل ہوں گی۔ ان نکات پر متفق ہو کر ہم دستخط کرینگے افواج اور عوام کے سامنے رکھیں گے۔ آئین میں جو فریم افواج، عدلیہ دیگر اداروں کے لیے ہیں ہر ادارہ اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دیں یہی پاکستان دس سالوں میں ایشیا کا ٹائیگر بن جائیگا۔

محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو پاکستان کی عوام کی بات نہیں کریگا، ایک صحیح جمہوری پاکستان کی تشکیل نہیں کریگا اسے تاریخ بھلا دیگی۔ محمود خان اچکزئی نے کارکنوں کے احتجاج اور ان کیخلاف حکومتی کریک ڈان اور سپیکر قومی اسمبلی بات چیت کی دعوت سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ہم جس آئین کا رونا رو رہے ہیں یہ آئین ہمیں پارٹی بنانے، جلسہ،جلوس کرنے،احتجاج کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ 70سالہ ایک شریف خاتون کو 5اگست میں جس طرح پولیس نے گھسیٹا کیا حکومت اس طرح چلائے جاتے ہیں۔ہم لکھ کر دینگے کہ ہمارے احتجاج جلوسوں میں کچھ غلط نہیں ہوگالیکن ہمیں اپنے سلوگن کے تحت احتجاج کی اجازت دی جائے۔

موجودہ سپیکر جو میرا دوست بھی ہے میں اسے اس لیئے حوالدار کہتا ہوں کہ اس سپیکر نے پارلیمنٹ ہاس کو ڈیبیٹنگ سوسائٹی سے بھی زیر کرکے بربادکردیاہے۔ وہ پارلیمنٹ میں یکدم میں اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ پنجاب یا لاہور کے فلاں ایم این اے نے رولز کے تحت چالیس دن چھٹی نہیں مانگی لہذا اسے ڈی سیٹ کی جائے پھر جب لوگوں نے شور مچایا مجھے موقع ملا بولنے کا میں نے کہا سپیکر صاحب آپ کے منہ میں گھی شکر کہ آپ کو اپنے اختیارات یا د آگئے۔ کیا اس طرح پارلیمنٹ چلائی جاتی ہے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ مذاکرات ہوں گے اس پر کہ چوری شدہ مینڈیٹ واپس کرو۔ ہم بین الاقوامی دنیا، سفیروں کو بھی کہینگے۔ آپ میڈیا، میاں نواز شریف، شہباز شریف ان کے گھر والے سب یہ جانتے ہیں کہ وہ الیکشن ہار چکے ہیں۔ پتہ نہیں انہیں اپنا ضمیر کیوں ملامت نہیں کرتی۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 8فروری 2024کی رات 9بجے تحریک انصاف نے الیکشن سویپ کیا۔

پہلے مرحلے میں تحریک انصاف کے لیڈر جو پاکستان میں سب سے پاپولر لیڈر ہے انہیں کسی بھی حلقے میں کاغذات نامزدگی جمع کرنے کی اجازت نہیں تھی، پھر اس کے بعد سب سے بڑی عدلیہ ایک پارٹی سے اس کا انتخابی نشان چھین لیتی ہے، پھر سو سے زائد انتخابی نشانات کے باوجود الیکشن جیت کر ہمت کی اور ان کی تمام بازی الٹ دی انہوں نے تو یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ فلاں وزیر اعظم،

فلاں صدر، فلاں وزرا اعلی ہوں گے۔ آئین یہ کہتا ہے کہ جو بھی فرد یا ادارہ آئین کو معطل کرتا ہے پا ں تلے روندھتا ہے وہ غداری کا مجرم ہے۔ اور جو ان کا ساتھ دیتے ہیں وہ بھی برابر کے ملزم ہیں۔ سٹیبلشمنٹ کا یہ کام نہیں کہ وہ مینڈیٹ دے۔ سٹیبلشمنٹ،میاں نواز شریف، شہباز شریف، پیپلز پارٹی سب جانتے ہیں۔ دکھ ہوتا ہے کہ26ویں آئینی ترمیم جس میں دو ووٹ شامل نہیں تھے ایک میرا(محمودخان اچکزئی) اور دوسرا علامہ راجہ ناصر عباس کا اس کے علاوہ سب شامل تھے۔ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے گئے آئین پر بحث جاری تھا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم پر ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے

کہ ہم نے یہ کمال کردکھایالیکن پھر 26ویں آئینی ترمیم میں بھی آپ سب شامل تھے۔

اور اب 27ویں آئینی ترمیم کی بات ہورہی ہے خداکے لیے اس ملک کو آگ نہ لگائیں۔ لوگ آپ کو نہیں چھوڑینگے۔میں ایک سیاسی کارکن ہوں اور اس حکومت کی وجہ سے پاکستان کی بربادی دیکھ رہا ہوں۔

میاں نوازشریف، فلاں فلاں بڑے آدمی ضرور ہوں گے لیکن پاکستان کی عوام سے بڑے نہیں ہوں گے۔ محمود خان اچکزئی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ جب یہ بربادی پھیلائی جارہی تھی یہی ایاز صادق اس کا گواہ بھی ہے۔

میں یہاں سے ماڈل ٹان گیا یہ سارے بیٹھے ہوئے تھے سوائے جھولی پھیلانے کے میں نے باقی تمام باتیں کی اور میں نے کہا کہ میاں صاحب خدا کے لیے یہ آپ کے دوست جس طرف آپ کو لیجارہے ہیں

یہ بربادی کا راستہ ہے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 9مئی کے حوالے سے ہونیوالے فیصلے چھوٹے ہیں بڑا فیصلہ یہ ہے کہ ہماری بدمستیوں، کرپشن کی وجہ سے یہ ملک ڈوب رہا ہے۔ پاکستان کے آئین پر تین مہر لگے ہوتے ہیں تینوں کے تینوں غلط ہے نہ یہ ملک جمہوری ہے نا پاک لوگوں کی جگہ ہے نہ اسلامی ہے۔

ہم سب لگے ہوئے ہیں اور اس ملک کولوٹ رہے ہیں۔