ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث حادثات میں 344 افراد جاں بحق اور 148 زخمی ہوئے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق شمالی علاقہ جات میں بارشوں کی صورت میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
این ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ بارشوں اور سیلاب کے دوران محتاط رہیں اور حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں، سیاح اگلے 5 سے 6 دن شمالی علاقہ جات کا سفرکرنے سے گریزکریں۔
پاک فوج کی ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز میں راشن اور دیگر سامان مہیا کیا جارہا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیا جارہا ہے۔
مسلح افواج اور فلاحی اداروں کی جانب سے خیبر پختونخوا کے لیے امدادی سامان روانہ کردیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے تمام متعلقہ سول اور عسکری اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے۔
تمام متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری امدادی کارروائیوں کی ہمہ وقت نگرانی کی جارہی ہے۔
پروونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث مجموعی طور پر 74 گھروں کو نقصان پہنچا، 63 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا جب کہ 11 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے۔
حادثات سوات، بونیر، باجوڑ، تورغر، مانسہرہ، شانگلہ اور بٹگرام میں پیش آئے۔
متاثرہ اضلاع کے لیے مجموعی طور پر50 کروڑ روپے جاری کردیے گئے ہیں، جس میں سے بونیر کے لیے 15 کروڑ روپے جاری کیے گئے جب کہ باجوڑ، بٹگرام اور مانسہرہ کے لیے 10، 10 کروڑ روپے اور سوات کے لیے 5 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔
دوسری جانب مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ صوبے کے 11 اضلاع کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب سے متاثر ہوئے، سیلاب سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 3 ہزار817 ہے۔
متاثرہ علاقوں میں 32 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے، 545 ریسکیو اہلکار اور90 گاڑیاں اور کشتیاں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں سب سے زیادہ بونیر میں 159 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 100 افراد کو زندہ بچالیا گیا، باجوڑ میں 20 افراد جاں بحق جبکہ ایک شخص لاپتا ہے، بٹگرام میں 11 افراد کی لاشیں ملی ہیں جبکہ 10 افراد لاپتا ہیں۔
اس سال مئی، جون سے سیلابی صورتحال کا سامنا ہے، گلگت بلتستان کے تقریباً تمام اضلاع میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے، حالیہ سیلاب میں 7 افراد جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہوئے ہیں، سیلاب کے باعث 4 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔
وزیر داخلہ گلگت بلتستان کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے گلگت بلتستان میں درجہ حرارت بڑھ گیا ہے، سیلاب سے 318 گھر تباہ ہوئے ہیں اور 674 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔
وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا میں حالیہ کلاؤڈ برسٹ، فلیش فلڈز سے قیمتی جانوں کے نقصان پر اظہار افسوس کیا۔
وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سے گفتگو میں کہا کہ این ڈی ایم اے کو ہدایت کی ہے کہ صوبائی حکومت کی ریسکیو و ریلیف آپریشن میں ہر قسم کی معاونت کریں۔
وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی ہر قسم کی مدد کرے گی، وفاقی حکومت ادویات، خیمے اور اشیاء خورونوش بھیج رہی ہے۔
بہرحال قدرتی آفت سے متاثرہ علاقے کے لوگوں کو اس مشکل وقت سے نکالنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، یہی وقت قومی یک جہتی کا ہے سب کو ملکر متاثرین کی بحالی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ان کی مشکلات میں کمی آسکے جبکہ صوبائی و وفاقی حکومت کی جانب سے متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا اور سیلاب کے پیش نظر مزید نقصانات سے بچنے کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مزید قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں۔
حکومت موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے آنے والی آفات کے تدارک کیلئے اقدامات اٹھائے جس کیلئے عالمی اداروں اور بیرونی ممالک سے فنڈز سمیت دیگر تعاون طلب کیا جائے جو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو۔