|

وقتِ اشاعت :   August 17 – 2025

اسلام آباد: سینئر سیاست دان سابق سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری خان رئیسانی نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی وجود کو زندہ رکھنے کیلئے مصالحت پسندی کی راہ اختیار کی جس کے نتیجے میں سیاسی جماعتوں ، پارلیمان اور عوام کے درمیان عدم اعتماد کی فضاء قائم ہوئی ،پارلیمنٹ کے پاس کوئی اختیار نہیں ، پارلیمنٹ مکمل مفلوج ہے ملک میں سیاسی اور سماجی خلاء￿ پیدا ہوچکا ہے ،

سیاسی جماعتیں اس خلاء کو خود احتسابی کے ذریعے پر کرسکتی ہیں ،بلوچستان کے مسلے کو ہمیشہ غلط تابیر کرکے پیش کیا گیا جس کے نتیجے میں بحران ، بدامنی ، کرپشن ، ناخواندگی میں اضافہ ہوا۔

یہ بات انہوں نے اتوار کو عوامی نیشنل پارٹی کے زیراہتمام اسلام اباد میں منعقدہ ا ل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے مزید کہا کہ بلوچوں اور پشتونوں نے ماضی میں میر وائس نیکا ، احمد شاہ ابدالی ،

نوری نصیر خان کے ساتھ مل کر اس سرزمین کے لوگوں کو اپنے وطن کا مالک بنایا ، ا ج سوات ، مالاکنڈ کے لوگ نقل مکانی کررہے ہیں بلوچستان کے لوگوں کے ا ئینی حقوق غضب کئے گئے ہیں ، سیاسی جماعتیں لوگوں کے حق اختیار کا دعویٰ تو کرتی ہیں مگر حق کہنے کی جسارت نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ طبقاتی ہے

قومی نہیں اور سرداروں کو مسائل کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے بلوچستان کے مسائل اگر طبقاتی ہیں تو وہاں مڈل کلاس کی حکومت ہے مسائل کیوں حل نہیں ہوئے۔

ہم ایک قومی اکائی ہیں ہماری تاریخ شناخت اور قومی حقوق ہیں میں کسی سردار کے حق میں بات نہیں کرتا ، عام بلوچ کی حیثیت سے زندگی گزارنے کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست اور ریاستی اداروں نے مسائل حل کرنے کی بجائے ہمیں ا پس میں الجھائے رکھا 1954ء سے لے کر ا ج تک سوئی گیس کو لوٹا جارہا ہے اگر سوئی گیس کے واجبات کا حساب کیا جائے تو وفاق ایک ہزار ارب روپے بلوچستان کا مقروض ہے جنرل ضیاء الحق کے دور سے لے کر ا ج تک سیندک کے ذخائر کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے۔

سی پیک جسے گیم چینجر کہا گیا سیاسی جماعتوں نے ویسٹرن روٹ کی بات تو کی مگر بلوچ حق ملکیت کی بات نہیں کی سیاسی جماعتوں نے بھی بلوچستان کے عوام کے ساتھ ناانصافی کی ہے 2021 میں بلوچستان اسمبلی کے ان کیمرہ اجلاس میں ریکوڈک کا سودا کیا گیا مگر ا ج تک اس معاہدے کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ،

پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت سے پوچھیں کہ سی پیک میں کتنے لوگوں کو روزگار ملا ، ساحل وسائل کو لوٹا جا رہا ہے صوبے کے لوگوں کا سیاسی و معاشی راستہ روک دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مکران ڈویڑن میں سالوں سے انٹرنیٹ بند ہے لوگ اس اقدام پر عدم اعتماد کا اظہار کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے

وہ سیاسی جماعتیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں جنہوں نے مصالحت کا راستہ اختیار کیا۔بلوچساتان میں جعلی شخصیات ، جعلی الیکشن ، جعلی نمائندوں سے امن نہیں ا ئے گا بلکہ اعتماد کی فضاء کو قائم کرنے کیلئے 1948ء میں خان قلات احمد یار خان اور محمد علی جناح کے مابین ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کیا جائے۔