|

وقتِ اشاعت :   August 18 – 2025

اسلام آباد/کوئٹہ: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان کی زیر صدارت منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین، دانشور طبقے، وکلا اور میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی اور ایمل ولی خان کی کوششوں کو سراہا کہ جنہوں نے ہر موقع پر تمام سیاسی قوتوں کو اکٹھا کیا اور پشتون و بلوچ اقوام کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا۔ آل پارٹیز کانفرنس میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا،پشتونخوا نیپ کے صوبائی صدور نصر اللہ خان زیرے، اشرف ہوتی ایڈووکیٹ، عنایت خان اچکزئی اور پشتونخوا ایس او پنجاب کے زونل ایگزیکٹو عہدیداران نے بھی شرکت کی۔

خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ آج پاکستان کو سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کا درپیش ہے۔ ہم نے پرائی جنگوں میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیں اور اربوں روپے کا نقصان برداشت کیا۔

اس جنگ میں بھی ہم نے بہت کچھ کھویا۔ آج ہمارے وسائل بھی عالمی طاقتوں کے حوالے کیے جا رہے ہیں۔

دنیا کی توجہ اب Rare Earth Elements (REE) پر مرکوز ہے، جس پر چین کی اجارہ داری ہے، جبکہ امریکہ اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے اس مقصد کے لیے امریکہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک پر فوکس کیے ہوئے ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے وسائل خود استعمال کرنے کے بجائے امریکہ کے حوالے کر رہے ہیں، اور ہماری اسٹیبلشمنٹ اس میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ “پنجاب کے مفادات کے تحفظ کے لیے پشتون اور بلوچ عوام کا خون بہایا جا رہا ہے، ان کے وسائل چھینے جا رہے ہیں، لاکھوں ایکڑ زمین حوالگی میں دی جا رہی ہے اور قوموں کو قرضوں کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔ یہ قوموں کے ساتھ ناانصافی ہے، ہمیں قرضوں کا حساب دیا جائے۔

خوشحال خان کاکڑ نے مزید کہا کہ آج بلوچ عوام سراپا احتجاج ہیں اور دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں جبکہ پنجاب خوشحال ہے۔ افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “طالبان کی واپسی کو عالمی طاقتوں کی شکست کہا جا رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سب ایک پری پلانڈ ایگزٹ کا حصہ تھا۔ پاکستان کی افغان پالیسی آج بھی الجھن کا شکار ہے۔ کبھی ہم طالبان کی آمد پر خوشی مناتے ہیں اور کبھی انہی کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان کڈوال پچاس سال سے یہاں رہ رہے ہیں، اس ملک کی تعمیر میں ان کا بڑا حصہ ہے، مگر ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے

عالمی قوانین کے تحت انہیں شہریت دی جانی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ “یہ ایک ایسا ملک بن گیا ہے جسے امن سے نفرت ہے۔ جو بھی امن کی بات کرتا ہے اسے جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے علی وزیر اور ماہ رنگ بلوچ جیسے لوگ امن کی بات کرتے تھے لیکن ان کو بھی قید و بند کی صعوبتیں دی گئیں پنجاب کی مقتدر قوتیں یاد رکھیں کہ پشتون اور بلوچ اقوام کی شناخت کو ختم کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔

اگر ہمارے مسائل حل نہ ہوئے تو خود رو تحریکیں جنم لیں گی اور پھر حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین نے زور دیا کہ پاکستان اگر فیڈریشن ہے

تو اسے حقیقی فیڈریشن ہونا چاہیے، جس میں چار محکمے وفاق کے پاس ہوں اور باقی تمام اختیارات صوبوں کو منتقل کیے جائیں۔ “جب تک ہم اپنی پالیسیاں خود نہیں بنائیں گے، مسائل کا حل ممکن نہیں۔

اس کے لیے نیا سوشل کنٹریکٹ وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ “پارلیمنٹ موجود ہے لیکن عوامی مسائل پر فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔ عدلیہ اور ادارے عوامی مفاد کے کیسز کا فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ مائنز اینڈ منرلز بل جیسے عوام دشمن قوانین کے خلاف فیصلہ دینے کی بھی ہمت نہیں بڑی پارٹیاں ہمیشہ ہمیں دھوکہ دیتی رہی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ چھوٹی جماعتیں متحد ہوں تاکہ قوموں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مثر جدوجہد کی جا سکے۔