|

وقتِ اشاعت :   August 21 – 2025

گوادر:  رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کی زیر صدارت نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالشکور نے رکن صوبائی اسمبلی کو اسکیم کے عوامی مسائل اور موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم 1985 میں حکومت بلوچستان کے تحت محکمہ لوکل گورنمنٹ نے شروع کی تھی، جسے بعد میں مزید مؤثر اور مستحکم بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے اپنی نگرانی میں لے لیا۔ اسکیم میں رہائشی مکانات کے ساتھ ساتھ شہریوں کی سہولت کے لیے بنیادی ڈھانچہ بھی فراہم کیا گیا ہے،

جن میں مساجد، پارکس، اسٹیڈیم، کمیونٹی سینٹر، ہاسٹل، اسکول، سرکاری دفاتر، واٹر ٹینک، میونسپل ہال، عیدگاہ، صاف پانی کی فراہمی کے لیے ڈیسالینیشن پلانٹ اور دیگر سہولیات کے لیے مختص زمینیں شامل ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ نیو ٹاؤن کے الاٹیز اس وقت حکومت کے تقریباً 80 کروڑ روپے کے واجب الادا ہیں۔ حکام نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ایک سرکاری اسکیم ہے،

نجی نہیں، لہٰذا تمام لائن ڈپارٹمنٹس کو چاہیے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں۔

مزید یہ بھی بتایا گیا کہ اسکیم کا مکمل ریکارڈ 100 فیصد محفوظ ہے۔اجلاس میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ نیو ٹاؤن اسکیم کے ذریعے انڈومنٹ فنڈ سے گوادر کے مختلف تعلیمی اداروں میں اساتذہ تعینات کیے گئے ہیں۔

اسی طرح یہ اسکیم فری ایمبولینس سروس اور جیونی انٹر کالج کو بھی سپورٹ فراہم کر رہی ہے۔آخر میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہا کہ صوبائی پی ایس ڈی پی میں نیو ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم کے لیے متعدد منصوبے شامل کیے جائیں گے، جن میں تعلیم، صحت، بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق ترقیاتی منصوبے شامل ہوں گے۔