کوئٹہ: گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پرائمری تعلیم کسی ملک کے تعلیمی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جو مستقبل کی تعلیمی کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔
شروعات سے پرائمری تعلیم پر توجہ مرکوز کرکے ہم خواندگی کی شرح کو نمایاں طور پر بہتر کر سکتے ہیں، ہماری قلیل مگر بکھری ہوئی منتشر آبادی کو تمام بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچانا بہت مشکل کام ہے لہٰذا ایک تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ بلوچستان کے وژن کو حقیقت میں بدلنے کیلئے ہمیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی خصوصی مدد اور رہنمائی کی اشد ضرورت ہے.
ان خیالات کا اظہار انہوں جمعہ کے بیوٹمز یونیورسٹی میں یونیسف اور ناروے حکومت کے زیر اہتمام بلوچستان میں پرائمری، مڈل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کے حوالے سے منعقدہ ایک پروقار تعلیمی پروگرام کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر یونیسف کی صوبائی سربراہ مریم درویش، وائس چانسلر بیوٹمز ڈاکٹر خالد حفیظ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور بازئی، پرو وائس چانسلر بیوٹمز ڈاکٹر میرویس خان کاسی اور پلوشہ جلال زئی سمیت بڑی تعداد میں اساتذہ اور اسٹوڈنٹس بھی موجود تھے. اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آج کی تقریب بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مقررین اور ماہرین نے ہمارے صوبے میں پرائمری تعلیم کے بارے میں زمینی حقائق اور حقیقی اعدادوشمار سامنے لائے ہیں جن سے حکومت کو مسقبل کیلئے ایک جامع مستقبل کی حکمت عملی بنانے میں مدد و رہنمائی ملے گی. پرائمری تعلیم کسی ملک کے تعلیمی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جو مستقبل کی تعلیمی کامیابی کی اصل بنیاد ہے۔
شروعات سے پرائمری تعلیم پر توجہ مرکوز کرکے ہم خواندگی کی شرح کو نمایاں طور پر بہتر کر سکتے ہیں، اعلیٰ تعلیم کے اندراج میں اضافہ کر سکتے ہیں اور روزگار کے مواقعوں کو بڑھا سکتے ہیں.
بلوچستان اگرچہ ملک کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے لیکن اس کی بہت قلیل مگر بکھری ہوئی منتشر آبادی کو تمام بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچانا بہت مشکل کام ہے لہٰذا ایک تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ بلوچستان کے وڑن کو حقیقت میں بدلنے کیلئے ہمیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی خصوصی مدد اور رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔ بلوچستان میں پرائمری تعلیم کی حالت تشویشناک ہے۔
یہاں 29 لاکھ ساٹھ ہزار بچے آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں جو ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے اپنے بنیادی حق سے محروم ہے۔
دیہاتوں میں پرائمری اسکولز بنیادی ڈھانچے سے محروم ہیں، وہاں بجلی کی سہولت سمیسر نہیں ہے، سکولوں میں صاف پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے اور سینکڑوں اسکولوں میں صفائی کی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے۔ ایسے مشکل حالات سیکھنے کے ماحول میں رکاوٹ بنتے ہیں اور والدین کو اپنے بچوں کو وہاں بھیجنے کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ دنیا کے ہر ذی شعور شخص کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہر بچہ سیکھنے، پڑھنے اور آگے بڑھنے کے مواقع کا مستحق ہے۔
یہ ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ بلوچستان کا کوئی بھی بچہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے اور بنیادی سہولیات محروم نہ رہے۔ ہم سب ملکر علم و شعور کے نئے چراغ روشن کر سکتے ہیں۔
آئیے ہم اپنے بچوں کو معیاری تعلیم اور جدید مہارت سے آراستہ کریں. آخر میں گورنر بلوچستان نے طلباء اور طالبات میں اسناد اور تحائف بھی تقسیم کیے گئے۔