|

وقتِ اشاعت :   August 22 – 2025

کراچی :  کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ عامر وڑائچ نے زاہد بگٹی اور کے.بی. بلوچ کے ہمراہ کراچی پریس کلب کے باہر قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے لاپتہ زاہد بلوچ اور سرفراز بلوچ کے اہلخانہ سے ملاقات کی اور اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔

ایڈووکیٹ عامر وڑائچ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن جبری گمشدگیوں کو ایک سنگین جرم سمجھتی ہے اور یہ ریاستی جبر کے مترادف عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی شہری کو لاپتہ کرنا آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے، کیونکہ سزا دینا عدالتوں کا اختیار ہے، جبکہ بے گناہ افراد کو زبردستی لاپتہ کرنا انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچ، سندھی، پشتون سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔

واضح رہے کہ کراچی پریس کلب کے باہر جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ 18 روز سے جاری ہے، جہاں لاپتہ نوجوانوں کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔لاپتہ زاہد بلوچ کا تعلق کلری لیاری سے ہے، جنہیں 17 جولائی 2025 کو کراچی کے علاقے گولیمار سے مبینہ طور پر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ دوسری جانب لاپتہ سرفراز بلوچ ماری پور ٹیکری ولیج سنگھور پاڑہ کے رہائشی ہیں، جنہیں 26 فروری 2025 کو برانی اسپتال کے باہر سے سادہ لباس اہلکاروں نے اغوا کیا۔ اہلخانہ کے مطابق سرفراز بلوچ اپنے بیمار ماموں کی تیمارداری کے لیے اسپتال آئے تھے اور کھانا لینے اسپتال سے باہر نکلے ہی تھے کہ چند افراد نے انہیں زبردستی گاڑی میں ڈال کر لاپتہ کردیا۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو ان کے پیاروں کا کوئی سراغ ملا ہے اور نہ ہی انہیں کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ زاہد بلوچ اور سرفراز بلوچ سمیت تمام جبری طور پر لاپتہ افراد کو بازیاب کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔