|

وقتِ اشاعت :   August 24 – 2025

وفاقی حکومت نے قومی محاصل کی صوبوں میں تقسیم کے نئے این ایف سی ایوارڈ کیلئے گیارہواں قومی مالیاتی کمیشن تشکیل دے دیا. وزیر خزانہ این ایف سی کے چیئرمین مقرر ہوگئے اور کمیشن 9 ممبران پر مشتمل ہے۔

وزازت خزانہ کے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں بتایا گیا ہے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 160 کی شق (1) کے تحت صدرِ مملکت نے فوری طور پر گیارویں نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

اس حوالے سے 21 جولائی 2020ء کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ 21 جولائی 2020ء کو تشکیل دیا گیا نیشنل فنانس کمیشن اب تحلیل تصور ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ این ایف سی کے چیئرمین ہوں گے جبکہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے خزانہ کمیشن کے ارکان ہوں گے، اس کے علاوہ پنجاب سے ناصر محمود کھوسہ، سندھ سے ڈاکٹر اسد سعید، خیبرپختونخوا سے ڈاکٹر مشرف رسول سیان اور بلوچستان سے فرمان اللہ بطور رکن نامزد کیے گئے ہیں۔

نوٹیفکیشن کے مطابق آرٹیکل 160 کی شق (2) کے تحت این ایف سی کے بنیادی مقاصد میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکسوں کی خالص آمدن کی تقسیم، وفاق کی جانب سے صوبوں کو گرانٹس اِن ایڈ دینے کے معاملات، وفاق اور صوبوں کے قرض لینے کے اختیارات، صوبائی دائرہ کار میں آنے والے اخراجات کی شراکت، بین الصوبائی معاملات پر اخراجات کی تقسیم، قومی نوعیت کے منصوبوں پر مشترکہ مالی ذمہ داری اور صدرِ مملکت کی جانب سے بھیجے گئے دیگر مالیاتی امور پر سفارشات دینا شامل ہیں، خزانہ ڈویژن وزارتِ خزانہ کمیشن کے لیے سیکریٹریٹ سپورٹ فراہم کرے گی۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف کے دباؤ پر وفاقی حکومت نے اخراجات میں واضح کمی کے پلان پر کام شروع کر دیا ہے۔صوبوں کا این ایف سی ایوارڈ میں حصہ کم کرنے کی تجویز ہے۔

مجوزہ پلان پر صوبوں کے اعتراضات ہیں اور سندھ نے تجویز کو مسترد کردیا ہے۔

وفاقی حکومت نے اخراجات میں واضح کمی کے پلان پر ابتدائی کام شروع کر دیا، نئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کارکردگی سے مشروط کرنے کی تجویز ہے۔

منصوبے کے تحت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لیے بھی واضح فنڈ مختص کرنے کی تجویز ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق وفاق کو گزشتہ مالی سال 7 ہزار 444 ارب روپے مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا جبکہ رواں مالی سال مالی خسارے کا تخمینہ 6 ہزار 501 ارب روپے ہے۔ منصوبے کا مقصد قرضوں کی ادائیگی اور بجٹ خسارے میں کمی لانا ہے، قرضوں پر سود، سماجی تحفظ، دفاع، ترقیاتی اخراجات، سبسڈیز وفاق کے بڑے خرچے ہیں، صرف قرضوں پر سود کی مد میں رواں مالی سال 8 ہزار 207 ارب خرچ ہوں گے۔ این ایف سی میں صوبوں کو دیئے گئے 57.5 فیصد حصے پر نظرثانی ضروری ہے، تعلیم، صحت، ماحولیات کے شعبوں میں بہتر کارکردگی سے صوبوں کو فنڈز ملنے کا امکان ہے۔

دیامر بھاشا سمیت بڑے ڈیمز کے لیے بھی این ایف سی سے حصہ نکالنے کی تجویز ہے، این ایف سی میں آبادی کے فارمولے کا وزن 82 فیصد سے کم کرنے کی تجویز ہے۔

وفاقی حکومت کے پاس زیادہ وسائل دستیاب ہونے سے آئی ایم ایف کی شرائط پوری ہونگی۔

بہرحال سب سے پسماندہ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ میں اہمیت دینی چاہئے تاکہ انہیں درپیش چیلنجز سمیت دیگر مالی مسائل میں مدد مل سکے۔

امید ہے کہ وفاق اور صوبے اتفاق رائے سے فارمولہ طے کرینگے تاکہ کسی بھی صوبے کیلئے مالی مسائل پیدا نہ ہوں۔