|

وقتِ اشاعت :   August 24 – 2025

کراچی:  ملیر کے علاقے کلا بورڈ، صدیق ویلیج کے رہائشی 26 سالہ نوجوان صادق مراد کی جبری گمشدگی کے خلاف اہل خانہ نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت اور اداروں سے فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اہل خانہ نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ 23 اگست 2025 کی علی الصبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے سی ٹی ڈی، پولیس اور سول کپڑوں میں ملبوس افراد ڈاکوؤں کی طرح گھر کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہوئے۔

بزرگوں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور صادق مراد کو زبردستی حراست میں لے جایا گیا۔

اہل خانہ کے مطابق کارروائی کے دوران نہ تو کوئی وارنٹ دکھایا گیا اور نہ ہی قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔

اہل خانہ نے رقت آمیز لہجے میں کہا کہ “ہمارا بیٹا کسی جرم میں ملوث نہیں، وہ ایک طالب علم اور گھر کا چراغ ہے۔

ریاستی ادارے ہمیں کیوں اس قدر بے بس کر رہے ہیں؟ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں جائیں اور کس سے فریاد کریں۔

“انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور حکومتی ادارے انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں، اسی لیے ہم میڈیا کے ذریعے اپنی آواز اہلِ شعور تک پہنچا رہے ہیں۔ اہل خانہ نے مطالبہ کیا کہ صادق مراد کو فی الفور باحفاظت رہا کیا جائے۔

پریس کانفرنس میں شریک رشتہ داروں اور قریبی افراد نے کہا کہ جبری گمشدگی ایک سنگین انسانی جرم ہے اور اسے کسی طور برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ “خاموشی ظالم کو طاقت دیتی ہے، اس لیے عوامی یکجہتی ہی انصاف کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

“اہل خانہ نے شہریوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں احتجاج میں شریک ہوں اور جبری گمشدگی کے خلاف آواز بلند کریں۔