|

وقتِ اشاعت :   August 25 – 2025

صہیونی ریاست کی جانب سے غزہ کے النصر ہسپتال پر یکے بعد دیگرے دو فضائی حملے کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں 15 افراد شہید ہوگئے، جن میں 4 صحافی بھی شامل ہیں۔

 فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں النصر ہسپتال پر یکے بعد دیگرے دو حملے کیے گئے۔

حکام کا کہنا تھا کہ پہلے حملے میں غیر ملکی خبررساں ادارے رائٹرز کے کیمرہ مین حسام المصری شہید ہوگئے جب کہ دوسرے حملے میں رائٹرز کے ایک اور فوٹوگرافر حاتم زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ دوسرا حملہ اس وقت ہوا جب امدادی کارکن، صحافی اور دیگر لوگ ابتدائی حملے کی جگہ پر پہنچے تھے اور حملے کی کوریج کر رہے تھے۔

رائٹرز کی ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ غزہ کے النصر ہسپتال سے براہِ راست نشر ہونے والا ویڈیو فیڈ، جسے المصری چلا رہے تھے، ابتدائی حملے کے چند ہی لمحوں بعد اچانک بند ہوگیا۔

فلسطینی وزارت صحت نے دیگر 3 صحافیوں کی شہادت کی بھی تصدیق کی ہے جن میں خبر ایجنسی اے پی کی صحافی مریم ابو دغہ، الجزیرہ کا فوٹو جرنلسٹ محمد سلامہ اور امریکی ٹی وی این بی سی کا صحافی معاذ ابو طحہٰ شامل ہیں جب کہ شہید ہونے والوں میں ایک امدادی کارکن بھی شامل ہے۔

فلسطینی صحافیوں کی انجمن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیلی مظالم کے نتیجے میں اب تک 240 سے زیادہ فلسطینی صحافی غزہ میں شہید ہو چکے ہیں۔

غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے اسرائیل سے ’ہسپتالوں پر حملے بند کرنے اور امدادی سامان غزہ پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔