|

وقتِ اشاعت :   August 27 – 2025

کوئٹہ : امیر جمعیت علما اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع اور جنرل سیکرٹری مولانا آغا محمود شاہ نے کہا کہ جمعیت علما اسلام ہی وہ واحد سیاسی و دینی جماعت ہے جس نے ہمیشہ صوبے کے عوام کو صحیح سمت کی راہنمائی فراہم کی ہے۔

ہم نے قوم کو خوشنما نعروں اور کھوکھلے دعوں کے پیچھے اندھیروں میں بھٹکنے سے بچایا ہے، اور بالخصوص نوجوانوں کو گمراہ کن راستوں سے روک کر معاشرے کو ہتھیاروں کی سیاست سے محفوظ بنایا ہے۔ہماری جماعت نے سالہاسال سے صوبے کے کونے کونے میں تربیتی کنونشنز اور آگاہی مہمات کے ذریعے عوام کو نہ صرف شعور دیا بلکہ صوبے کی جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں بیرونی قوتوں کی سازشوں کو بے نقاب بھی کیا۔ یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان کی مٹی پر ہمیشہ بڑی طاقتوں کی نظریں جمی رہی ہیں، مگر جمعیت علما اسلام نے سدِ سکندری بن کر ان سازشوں کے سامنے بند باندھا۔

تاہم، اس سب کے باوجود ہماری جماعت کو محلاتی سازشوں کا شکار بنایا گیا۔ اکثریتی جماعت ہونے کے باوجود بارہا ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا اور شب خون مارا گیا۔ ہمیں خدمتِ عوام سے محروم رکھ کر نہ صرف جماعت کو نقصان پہنچایا گیا بلکہ براہِ راست صوبے اور اس کے عوام کو بحرانوں کے دلدل میں دھکیلا گیا۔خطاب کے دوران انھوں نے کہاکہ جمعیت علما اسلام نے ہمیشہ وسعتِ قلبی اور فراخ دلی کے ساتھ صوبے کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ تجاویز پیش کیں۔

لیکن افسوس کہ ان مخلصانہ کاوشوں کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا اور ایسے نمائندوں کے بچگانہ اور غیر حقیقت پسندانہ فیصلوں کو ترجیح دی گئی جنہیں عوامی تائید حاصل ہی نہیں تھی۔

نتیجہ یہ نکلا کہ اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی کے مصداق صوبہ بد انتظامی اور بحرانوں کی آماجگاہ بنا دیا گیا۔آج بھی جمعیت علما اسلام اپنے روایتی عزم اور عوام دوستی کے ساتھ صوبے کی خاطر ہر طرح کے تعاون اور رہنمائی کے لیے تیار ہے۔

مگر اسکیمات کی سیاست کرنے والے، جو صرف ذاتی مفاد اور وقتی فائدے کو ترجیح دیتے ہیں،

انہیں کم از کم یہ سوچنا چاہیے کہ درخت اپنی جڑوں سے کٹ جائے تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ اگر صوبے کے وسیع تر مفاد کو نظر انداز کر کے صرف ذاتی تجوریاں بھری جائیں گی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ہم یہ باور کرانا چاہتے ہیں

کہ جمعیت علما اسلام کے پاس نہ صرف ماضی کی قربانیوں کا ریکارڈ ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی ایک جامع روڈ میپ ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہماری مخلصانہ تجاویز کو زیرِ بحث لایا جائے اور صوبے کو مزید سیاسی کھلواڑ سے بچایا جائے۔