اسلام آباد: حالیہ سیلاب سے متعلق حکومتی رہنماؤں کے بیانات میں تضاد سامنے آ گیا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ موجودہ سیلاب کو بھارتی آبی جارحیت قرار نہیں دیا جا سکتا، جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اسے بھارت کی کھلی آبی جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
نجی ٹی وی کو دی گئی خصوصی گفتگو میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت نے حالیہ سیلاب سے متعلق دو بار پیشگی اطلاع دی ہے، جو سندھ طاس معاہدے کے تحت ایک معمول کی کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس بار ڈیم سے پانی چھوڑنے کے بعد بھی مطلع کیا، اور پاکستان بھی اسی طرح اپنے ڈیموں سے پانی ریلیز کرتا ہے
تاکہ شہری آبادی کو خطرہ نہ ہو۔خواجہ آصف نے کہا کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ بھارت نے سیلابی ریلے جان بوجھ کر چھوڑے۔ انہوں نے حالیہ بارشوں کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 50 سال بعد شہری علاقوں میں اتنی شدید بارش ہوئی ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں آبی گزرگاہوں پر تجاوزات ایک بڑا مسئلہ ہیں، خاص طور پر سیالکوٹ جیسے شہروں میں، جہاں نالوں کے دونوں طرف فیکٹریاں قائم ہیں۔ وزیر دفاع نے تجاوزات کے خاتمے کے لیے سروے شروع کرنے اور کارروائی کا عندیہ بھی دیا۔
دوسری جانب اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کو نظر انداز کرتے ہوئے بغیر اطلاع پانی چھوڑا، جس سے پاکستان کے کئی علاقوں میں شدید سیلاب آیا،
قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں اور بنیادی ڈھانچے کو وسیع نقصان پہنچا۔ انہوں نے اسے بھارت کی کھلی آبی جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے بروقت اطلاع دی ہوتی تو پاکستان مناسب حفاظتی اقدامات کر سکتا تھا۔ایاز صادق نے مزید کہا کہ مودی حکومت اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔
انہوں نے 10 مئی 2025 کو بھارتی جارحیت کے خلاف قوم کے متحدہ ردعمل کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام اور افواج ہر محاذ پر وطن کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے سیلاب متاثرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے قوم سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھ کر متاثرین کی مدد کریں۔انہوں نے پاک فوج، قومی اداروں اور رضاکاروں کی امدادی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم اس کٹھن وقت میں سیلاب متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کی بحالی کو ایک قومی فریضہ سمجھ کر ادا کریں گے۔