|

وقتِ اشاعت :   August 31 – 2025

بلوچستان کا دارالخلافہ کوئٹہ جوکسی زمانے میں لٹل پیرس کہلاتا تھا ،کئی دہائیوں سے مسائل کا شکار ہے، کچرے کے ڈھیر، سیوریج کا مسئلہ، پانی کی قلت، ٹریفک کا دبائو، غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر، تجاوزات، پارکنگ کی سہولت کانہ ہونا، اہم تجارتی مراکز کے فٹ پاتھوں پر ناجائز ٹھیلے اور چھوٹے کیبن یعنی کوئٹہ انگنت مسائل میں گراہوا ہے جس سے عوامی مسائل بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں اور شہر کی خوبصورتی بھی ماند پڑ گئی ہے ۔
کوئٹہ میٹرو پولیٹن کی شہر کے مسائل حل کرنے میں مرکزی کردار ہے مگر جو اموراس کے دائرہ کار میں آتے ہیں انہیں حل کرنے میں یہ ناکام دکھائی دیتا ہے ،شہر میں موجود مسائل کے حل پر خاص توجہ نہیں دی جاتی المیہ یہ بھی ہے کہ من پسند آفیسران اور ملازمین کی بھرتیاں بغیر میرٹ کی جاتی ہیں بعض ملازمین تو ڈیوٹی بھی نہیں دیتے اور تنخواہ لیتے ہیں۔ کوئٹہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن اگر ایمانداری سے کام کرے تو شہر کے بیشتر مسائل حل ہوسکتے ہیں مگر افسوس کہ اس ادارے میں بھی مبینہ کرپشن ہورہی ہے جو ادارے کی ساکھ کو متاثر کررہا ہے ساتھ ہی شہر کی تباہی کا بھی سبب بن رہا ہے۔
گزشتہ روز کوئٹہ کی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں مالی سال 2023-24کے دوران ایک ارب 17کروڑروپے بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے مالی سال 2023-24کے دوران میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوئٹہ کی تیار کی گئی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ میں سائیکل /موٹر سائیکل اسٹینڈ، اسٹالز، نادرا کے برتھ، میرج اور ڈیٹھ سرٹیفکیٹس کی فیس اور کرائے کی مد میں ایک کروڑ 3 لاکھ 12ہزار روپے کی رقم کا مبینہ طور پر غلط استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق میٹرو پولیٹن کارپوریشن نے دکانوں کے کرایوں، معاہدوں کی تجدید اور غیر قانونی طور پر اجراکی مد میں 17کروڑ 87لاکھ روپے سے زائد کی بے قاعدگیاں ہوئیں، میٹروپولیٹن کارپوریشن مقرر کردہ ٹیکس ہدف 82کروڑ 36لاکھ میں سے صرف 3کروڑ 64لاکھ روپے حاصل کر سکی جس کی وجہ سے خزانے کو 79کروڑ 29لاکھ سے زائد کے نقصانات ہوئے’۔
رپورٹ کے مطابق پیٹرول پمپ کی عدم نیلامی سے 6کروڑ 56 لاکھ سے زائد کا مالی نقصان ہوا، امداد ہوٹل کی لیز کی تجدید مارکیٹ ریٹ پر نہ ہونے سے ادارے کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میٹروپو لیٹن کارپوریشن کی جانب سے جوائنٹ روڈ پر تعمیر کی گئی 54 میں سے 51 دکانوں کو کرائے پر نہیں دیا گیا جس سے 3کروڑ 43لاکھ سے زائد کے نقصانات ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق پرنس روڈ پر قائم 50 دکانوں اور کیبن کا کرایہ نہ لینے کی وجہ سے ادارے کو 1کروڑ 50 لاکھ کا نقصان ہوا جبکہ بکرا پیڑی کے ٹھیکے میں بھی ادارے کو ایک کروڑ 45لاکھ روپے سے زائد کے نقصانات اٹھانے پڑے۔
پی ایس ایل کا میچ کرانے کے انتظامات میں ایک کروڑ 84لاکھ کی بے قاعدگیاں بھی سامنے آئی ہیں۔آڈٹ رپورٹ بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سپرد کردی گئی۔
بہرحال رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے پاس چلی گئی ہے کیا اس کے بعد میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں ہونے والے کرپشن میں ملوث آفیسران و ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی؟ اگر صوبائی حکومت اس کیس کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بلا تفریق کارروائی کرے تو یقینا اس کے مثبت نتائج کوئٹہ شہر کی بہتری کی صورت میں آئینگے۔
کوئٹہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کوایک بہترین ادارہ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ کرپٹ عناصر سے ادارے کو پاک کیا جائے تاکہ ادارہ کوئٹہ شہر کی بہتری اور عوامی مسائل حل کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کرے، شہر کو بے تحاشہ مسائل سے نکالنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے، شہر کی خوبصورتی کو بحال کرے جو اس کی اصل ذمہ داری ہے ۔