دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے کی صورت میں بلوچستان کے اضلاع جعفر آباد، اوستہ محمد اور صحبت پور میں سیلاب آنے کا خطرہ ہے، صوبائی حکومت نے محکمہ آب پاشی کو الرٹ جاری کردیا۔
16 مختلف علاقوں میں فلڈ کنٹرول سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، ڈی جی پی ڈی ایم اے نے صورتحال کو مانیٹر کرنے کیلئے نصیر آباد میں کیمپ آفس قائم کرلیا۔
یہ بات صوبائی وزیر آب پاشی صادق عمرانی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی بتائی۔
انہوں نے کہا کہ دریا ئے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے کی صورت میں دو اور تین ستمبر کو سیلاب کا پانی بلوچستان میں داخل ہونے کا امکان ہے جس سے صوبے کے علاقے جعفرآباد، روجھان، اوستہ محمد، صحبت پور کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔
صادق عمرانی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اور صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ آب پاشی نے 16مختلف علاقوں میں فلڈ کنٹرول سینٹرز قائم کر کے اپنے انتظامات مکمل کرلئے ہیں ،ان کیمپس میں ضروری مشینری منتقل کردی گئی ہے۔
دوسری جانب ڈی جی پی ڈی ایم اے جہاں زیب خان نے بتایا کہ ممکنہ سیلاب کے پیش نظر میں نے اپنا کیمپ آفس نصیر آباد میں قائم کرلیا ہے، سندھ سے ملحقہ تینوں اضلاع میں محفوظ مقامات کی نشاندھی کرلی ہے جہاں کیمپ قائم کئے جا رہے ہیں۔
بلوچستان میں اس سے قبل بھی سیلاب سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے تھے ،کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں تھیں، اس آفت سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے ،کافی بے گھر ہوئے انہیں مجبوراً نقل مکانی کرنا پڑا جبکہ بعض خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔
اب ایک بار پھرجعفر آباد، اوستہ محمد اور صحبت پور میں سیلاب کاخطرہ ہے، سب سے پہلی کوشش یہ ہونی چاہئے کہ جانی نقصان سے بچاؤ کے کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں۔
،مالی نقصانات کو روکنا مشکل ہے چونکہ یہ قدرتی آفت ہے جس سے فصلوں اور مکانات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے مگر کوشش یہی کی جائے کہ بروقت نکاسی آب کا بندوبست کیا جائے ،ہیوی مشینری استعمال کی جائے تاکہ کم سے کم نقصان ہو۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے وفاقی سطح پر ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، اب ہر سال پاکستان کو سیلاب جیسے خطرناک صورتحال کا سامنا ہے ۔
خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں سیلاب سے زیادہ تباہی ہوئی، سندھ اور بلوچستان کے بھی متاثر ہونے کاخدشہ ہے ۔
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور آبی گزرگاہوں سمیت پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ سیلابی صورتحال سے نقصانات نہ ہوں۔
حکومت بلوچستان جعفر آباد، اوستہ محمد اور صحبت پور میں ہنگامی اقدامات اٹھائے، خیموں اورخوراک کی فراہمی سمیت دیگر ضروری اقدامات اٹھائے تاکہ انسانی بحران پیدا نہ ہو جبکہ سیلاب سے فصلوں کو نقصانات سے بچانے کیلئے بھی تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں تاکہ کسانوں کو مالی نقصان نہ ہو جبکہ کاشت کاری بھی زیادہ متاثر نہ ہو۔