|

وقتِ اشاعت :   September 7 – 2025

کوئٹہ: محکمہ داخلہ بلوچستان نے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی اور جمہوری حق ہے تاہم کسی کو بھی زبردستی سڑکیں یا شاہراہیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی

شہریوں کی آزادیِ نقل و حرکت اور معمولاتِ زندگی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جائے گی محکمہ داخلہ نے واضح کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور زور زبردستی یا تشدد کے ذریعے شہریوں کو مشکلات میں ڈالنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے بلا امتیاز سخت کارروائی کا سامنا کریں گے، جبکہ عوام کی سہولیات میں رکاوٹ ڈالنے والے قانون کے تحت جرم کے مرتکب ہوں گے پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی فیڈرل سبجیکٹ کو متاثر کرنے کی کوشش پر بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ایئرپورٹس، ریلوے اسٹیشنز، ہائی ویز اور تمام وفاقی و صوبائی منصوبوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہو محکمہ داخلہ نے کہا کہ ہسپتال، عوامی ٹرانسپورٹ، فیول اسٹیشنز اور مارکیٹس ہر صورت فعال رہیں گی۔ تعلیمی ادارے اور صحت کے مراکز کی بندش کسی طور برداشت نہیں کی جائے گی۔ تمام ڈاکٹروں اور عملے کی حاضری یقینی بنانے، ایمبولینسز کو الرٹ رکھنے اور ادویات کی دستیابی کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں

محکمہ داخلہ نے کہا کہ امن عامہ کو نقصان پہنچانے والے ملک دشمنی کے مرتکب تصور ہوں گے اور ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور ایسے عناصر سے دور رہیں جو امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کریں۔