کوئٹہ : بلوچستان میں پْرامن جمہوری جہد کاروں کے سیاسی راستے بند کرنے کی ریاستی پالیسی نہ صرف قابلِ افسوس ہے بلکہ یہ ایک خطرناک رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔
آج نیشنل پارٹی، بی این پی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، بی ایس او پجار اور پی ایس او سمیت کئی جمہوری پارٹیوں اور طلبہ تنظیموں کے درجنوں قیادت کو گرفتار کیا گیا، ان پر لاٹھی چارج اور طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جو کہ ریاستی جبر و ناکامی کی کھلی عکاسی ہے۔
مرکزی ترجمان بی ایس او پجار نے کہا کہ بلوچستان میں جمہوری آوازوں کو دبانا دراصل اس سوچ کو تقویت دینا ہے کہ یہاں پارلیمانی طرزِ سیاست کی کوئی گنجائش نہیں۔ بلوچ قوم پہلے ہی پارلیمانی سیاست کے تجربات سے مایوسی کا شکار ہے، اور اب ان جمہوری قوتوں پر قدغن لگا کر ریاست نے خود اپنے دعوؤں کی نفی کر دی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ جماعتیں اور تنظیمیں ہمیشہ سے جمہوری جہد اور پارلیمانی نظام پر یقین رکھتی رہی ہیں۔
ان کی جدوجہد پْرامن اور عوامی حقوق کے حصول کے گرد گھومتی ہے۔ ایسے میں ان کے قائدین کو گرفتار کرنا، ان پر تشدد کرنا اور ان کے سیاسی و جمہوری کردار کو سبوتاڑ کرنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست جمہوریت کو محض ایک دکھاوا بنا کر رکھنا چاہتی ہے۔مرکزی ترجمان نے واضح کیا کہ اگر بلوچستان میں جمہوری جدوجہد کے دروازے بند کیے گئے تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔
جبر اور گرفتاریوں سے تحریکوں کو دبایا نہیں جا سکتا بلکہ اس سے نوجوانوں میں مزید اشتعال اور ردعمل جنم لے گا۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جمہوری آوازوں کا گلا گھونٹنا دراصل اپنے ہی سیاسی نظام کو غیر مستحکم کرنا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بی ایس او پجار جمہوری اقدار، عوامی آزادی اور قومی تشخص کی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور اس راستے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
جیلیں، تشدد اور جبر ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔ اس کے برعکس یہ سب اقدامات ہمارے نظریے اور تحریک کو مزید قوت فراہم کرتے ہیں۔آخر میں مرکزی ترجمان نے کہا کہ بی ایس او پجار تمام جمہوری و ترقی پسند قوتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس ریاستی جبر کے خلاف متحد ہو جائیں اور بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں عوامی جمہوریت کے استحکام کے لیے عملی کردار ادا کریں۔
جمہوریت کی بقا صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری اور ہر تنظیم کو برابری کے ساتھ اپنے سیاسی نظریات اور سرگرمیوں کا حق حاصل ہو۔