کوئٹہ : امیر جمعیت علماء اسلام بلوچستان، سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ صوبے میں جمہوریت اور جمہوری اقدار کے سامنے کسی بھی رکاوٹ کو جمعیت نہ صرف تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے بلکہ اس کی دوٹوک مخالفت بھی کرتی ہے۔
جے یو آئی نے ہمیشہ عوامی حقوق، جمہوری آزادیوں اور آئینی روایات کے تحفظ کیلئے ہر محاذ پر جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی یہ جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ حالیہ افسوسناک واقعات میں پندرہ سے بیس قیمتی جانوں کا شہید ہونا اور چالیس سے زائد افراد کا زخمی ہونا صوبے میں امن و امان کے نظام کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
لیکن اس کے باوجود عوام کو اپنے غم کا اظہار احتجاج کے حق سے محروم کرنا دراصل آمریت سے بھی بدتر مثال ہے۔ یہ رویہ جمہوریت کی روح کے منافی اور عوامی حقوق پر حملہ ہے۔
مولانا عبدالواسع نے کہا کہ حکومت بارہا اپنی ناکام گورننس اور ناقص کارکردگی کا اعتراف کر چکی ہے، لیکن جب عوام انہی ناکامیوں کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو انہیں لاٹھی چارج، گرفتاریوں اور ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر جمہوری ہے بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کر رہا ہے۔امیر جے یو آئی بلوچستان نے کہا کہ آج کے احتجاج کے دوران گرفتار کئے گئے تمام سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی فوری اور غیرمشروط رہائی عمل میں لائی جائے۔
حکومت کو یا تو برداشت اور رواداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا یا پھر اپنی کارکردگی بہتر بنانی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی واضح کرتی ہے کہ صوبے کے عوام کو مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ہم نہ صرف عوام کے حقوق بلکہ ان کے جمہوری، آئینی اور انسانی مطالبات کی حفاظت کیلئے ہر فورم پر جدوجہد کریں گے۔ جمعیت علماء اسلام صوبے کی موجودہ بحرانی صورتحال میں ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہے اور عوامی آواز کو دبانے کی ہر کوشش کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔