|

وقتِ اشاعت :   September 10 – 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ بھارت کے ساتھ تجارتی رکاوٹوں کو حل کرنے کے لیے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ اس سلسلے میں نریندر مودی سے بات کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں کی سفارتی کشیدگی کے بعد امریکا اور بھارت کے درمیان کوئی تجارتی معاہدہ ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے لہجے میں نمایاں تبدیلی لاتے ہوئے کہا کہ وہ ’آنے والے ہفتوں‘ میں نریندر مودی سے بات کرنے کے منتظر ہیں اور پرامید ہیں کہ وہ ایک تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے سکتے ہیں۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ ’مجھے پورا یقین ہے کہ دونوں عظیم اقوام کے لیے ایک کامیاب نتیجے تک پہنچنے میں ہمیں کوئی مشکل نہیں ہوگی‘۔

دوسری جانب، بھارتی وزیراعظم نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اشنگٹن اور نئی دہلی ’قریبی دوست اور فطری شراکت دار‘ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’دونوں ممالک کی ٹیمیں تجارتی مذاکرات کو جلد از جلد مکمل کرنے پر کام کر رہی ہیں جب کہ میں بھی صدر ٹرمپ سے بات کرنے کا منتظر ہوں، ہم مل کر اپنے عوام کے لیے ایک روشن اور خوشحال مستقبل کو یقینی بنائیں گے‘۔

دونوں رہنماؤں کے تازہ بیانات کے بعد بھارتی شیئرز میں 0.5 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔

خیال رہے کہ ٹرمپ نے چند ہفتے قبل دعویٰ کیا تھا کہ دونوں فریق ایک تجارتی معاہدے کے قریب ہیں، لیکن اچانک بھارتی درآمدات پر نئے ٹیرف کو دگنا کر کے 50 فیصد کر دیا تھا جس نے امریکا-بھارت تعلقات کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے۔

گزشتہ چند ہفتوں میں، ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھارت پر روس سے تیل خریدنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت یوکرین کی جنگ کو فنڈ کر رہا ہے، تاہم نئی دہلی نے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا۔

امریکا کے ساتھ یہ سفارتی تناؤ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت چین کے قریب ہو رہا ہے،گزشتہ ماہ کے آخر میں، مودی نے 7 سال بعد چین کا پہلا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ کی میزبانی میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کی اور روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ بھی ملاقات کی۔