چند روز قبل بلوچستان اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت صوبائی سول سروس (PCS) کے امتحانی مواقع کو تین سے بڑھا کر پانچ کیا گیا۔
یہ قرارداد اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے پیش کی جن کا مؤقف تھا کہ بلوچستان کے باصلاحیت نوجوانوں کو مزید مواقع اور بہتر روزگار ملنا چاہئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قرارداد کو حکومتی اور اپوزیشن دونوں بینچوں کی مکمل حمایت حاصل ہوئی۔
تاہم، اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک اہم پہلو کو نظرانداز کر دیا گیا۔
بلوچستان پبلک سروس کمیشن (BPSC) سے متعلق اصل اور بنیادی مسائل ان میں امتحانات اور انٹرویوز میں تاخیر، صوبے میں موثر صوبائی منیجمنٹ سروس (PMS) کے نظام کا فقدان اور بی پی ایس سی کے چیئرمین کی غیر موجودگی جیسے مسائل شامل ہیں۔
نومبر 2023 میں ہونے والے آخری پی سی ایس امتحانات کے نتائج آنے میں 9 سے 10 ماہ کی تاخیر ہوئی اور اب تک یہ بھی واضح نہیں کہ اگلا امتحان کب ہوگا۔
اصل مسئلہ امتحانی مواقع کی تعداد نہیں بلکہ نظام میں موجود کمزوریاں ہیں جو امیدواروں کو غیر معینہ مدت تک انتظار میں رکھتا ہے اور ان کے مستقبل کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔
اس صورتحال پر یہاں یہ دلیل دی جا سکتی ہے کہ وفاقی سطح پر سی ایس ایس امتحانات کے حوالے سے اصلاحات لائی جارہی ہے تاکہ نوجوانوں کا مستقبل بہتر ہو جو کہ قابل ستائش اقدام ہے مگر بلوچستان کے اراکینِ اسمبلی کو تسلیم کرنا چاہیے کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کی کارکردگی بی پی ایس سی سے کہیں بہتر ہے۔ سی ایس ایس امتحانات ہر سال باقاعدگی سے ہوتے ہیں، نتائج وقت پر جاری ہوتے ہیں اور مکمل شیڈول مہینوں پہلے آن لائن فراہم کر دیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس بی پی ایس سی کا نصاب مبہم ہے، جس میں صرف اتنا لکھا ہوتا ہے ” requirements degree per As “۔
یہ تمام حقائق اسمبلی کے مباحثے سے غائب تھے جو اس قرارداد کو ایک عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش بنا دیتے ہیں نہ کہ نظام کی بہتری کے لیے کوئی سنجیدہ کاوش۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس قرارداد نے خود بی پی ایس سی کی شفافیت اور کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ مثلاً، تحصیلدار کے امتحان کے نتائج دو ماہ قبل جاری ہوئے، جس کے بعد نائب تحصیلدار کے نتائج بھی آ گئے لیکن اب تک انٹرویوز کے لیے کوئی ابتدائی شیڈول جاری نہیں کیا گیا۔
اس غیر یقینی صورتحال نے سینکڑوں امیدواروں کو بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے اور بی پی ایس سی کی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مزید بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اس وقت بی پی ایس سی بغیر چیئرمین کے کام کر رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ممکنہ امیدواروں کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں لیکن سرکاری طور پر کسی بات کی تصدیق نہیں کی گئی۔
بعض اطلاعات کے مطابق بااثر شخصیات جن میں کچھ سابق عوامی عہدیدار بھی شامل ہیں جو اپنے من پسند چیئرمین کی تقرری کے لیے لابنگ کر رہے ہیں۔
اگرچہ یہ الزامات ثابت شدہ نہیں لیکن یہ شبہات ایک ایسے ادارے کے غیرجانبدار مستقبل پر سوال اٹھاتے ہیں جو بلوچستان کی بیوروکریسی کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
پی سی ایس کے امتحانات کے مواقع بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں، اگر امیدواروں کو امتحان میں بیٹھنے کا موقع ہی نہ ملے۔
اصل بحث یہ ہونی چاہیے کہ بلوچستان میں ایک مؤثر اور مربوط PMS ماڈل متعارف کرایا جائے جیسا کہ دیگر صوبوں میں رائج ہے، جہاں امتحانات ہر سال شفاف اور بروقت ہوتے ہیں۔
صرف اسی صورت میں مواقع بڑھانے کی بحث کوئی حقیقی معنی رکھے گی۔ بی پی ایس سی کے نئے چیئرمین کی تقرری میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
تمام زیرِ التوا انٹرویوز اور امتحانات کا شیڈول فوری طور پر جاری کیا جائے۔ یہ ایک اہم نوعیت کا معاملہ ہے جو ادارے میں شفافیت اور اعتماد کی بحالی سے متعلق ہے۔
اسمبلی میں ایسی قراردادیں پیش کرنے سے پہلے ہمارے اراکینِ اسمبلی کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو درپیش اصل چیلنجز کو سمجھیں۔
صرف سوشل میڈیا پر مقبول ہونے کے لیے عوامی جذبات بھڑکانے کی سیاست نہ کی جائے۔
یہ طرزِ عمل نہ تو نوجوانوں کی مدد کرتا ہے نہ ہی نظام کو بہتر بناتا ہے۔
بی پی ایس سی میں اصلاحات اور نوجوانوں کا مستقبل !
![]()
وقتِ اشاعت : September 13 – 2025