ملک میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، خیبرپختونخواہ، پنجاب، گلگت بلتستان سب سے زیادہ متاثر ہیں، جانی و مالی نقصانات بڑے پیمانے پر ہوئے ہیں جبکہ سندھ بھی متاثر ہے مگر پنجاب اور کے پی میں زیادہ نقصانات ہوئے ہیں ،ایک ہنگامی صورتحال ہے لوگوں کے مکانات منہدم ہوئے ہیں ،فصلیں تباہ ہوئیں، انفراسٹرکچر بری طرح متاثر ہوا ہے، ایسے حالات میں عالمی مدد انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ نقصانات نہ ہوں، متاثرین کی بحالی کیلئے جنگی اقدامات کی ضرورت ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے عالمی اداروں سے اپیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’’ایکس‘‘ پر پیغام دیتے ہوئے چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ بین الاقوامی امداد کی اپیل نہ کرکے کروڑوں متاثرہ پاکستانیوں کو اس امداد سے محروم رکھنے کا کوئی جواز نہیں، لہٰذا ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بین الاقوامی امداد کی اپیل فوری طور پر کی جائے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے مطالبے پر ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن یہ قابل افسوس ہے کہ وفاقی حکومت اب تک گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بالخصوص جنوبی پنجاب کے متاثرہ اضلاع کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت کسی ریلیف کا اعلان نہیں کر سکی۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ذاتی طور پر مجھے یقین دہانی کرائی تھی کہ متاثرین سیلاب کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے نظام کے تحت بین الاقوامی امداد کے لیے اپیل میں تاخیر ناقابلِ فہم ہے، اس سطح کی آفات کے دوران دنیا بھر میں بین الاقوامی امداد کی اپیل ایک معمول کی پریکٹس ہے جیسا کہ 2022 کے سیلاب کے دوران اس وقت کیا گیا جب میں وزیر خارجہ تھا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے اس سے قبل 2010 کے سیلاب اور 2005 کے زلزلے کے وقت بھی بین الاقوامی امداد کے لیے اپیلیں کی تھیں، دنیا بھر کے ممالک ایسی قدرتی آفات کے ابتدائی 72 گھنٹوں کے دوران عالمی برادری سے مدد کی اپیل کرتے ہیں۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی متاثرین سیلاب کے لیے تمام صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قراردادیں پیش کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ وسطی پنجاب، جنوبی پنجاب اور سندھ کے متاثرہ علاقوں کے دوروں کے بعد، میری ملاقات وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیرِ زراعت سے ہوئی ہے، وزیراعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیر زراعت سے ملاقاتوں میں صوبائی سطح پر زراعت سے وابستہ برادری کی مدد کے لیے غور کیا گیا ہے۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سیلاب سے سب سے زیادہ زراعت کا شعبہ متاثر ہوا ہے اور ہمیں اْمید ہے کہ وفاقی حکومت بھی زراعت کے شعبے کی بحالی کے لیے ہمارے اقدامات میں ہماری بھرپور مدد کرے گی۔
دوسری جانب صدر آصف علی زرداری نے جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرین سے اظہار ہمدردی اور یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزاروں متاثرین گھروں سے بے گھر ہوگئے اور روزگار بری طرح متاثر ہے، ہم سیلاب متاثرہ عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ریسکیو، ریلیف اور بحالی کے کام صوبائی حکومت، مسلح افواج اور فلاحی اداروں کے تعاون سے پوری توانائی کے ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت ہے، زراعت اور لائیو اسٹاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی درخواست پر ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی گئی جس کا مقصد کسانوں کا تحفظ اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے عوام سے اتحاد کی اپیل کی ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ حکومت متاثرہ علاقوں کی فوری ضروریات اور طویل مدتی بحالی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے گی۔
بہرحال وفاقی حکومت فوری طور پر عالمی امداد کیلئے حکمت عملی طے کرے ،ٹیم تشکیل دے جو عالمی اداروں،عالمی برادری اور عالمی ڈونرز کے ساتھ رابطہ کرے تاکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جلد کام کا آغاز کیا جاسکے تاکہ متاثرین کی پریشانی زیادہ نہ بڑھے جبکہ موسمیاتی تبدیلی اور ایسے آفات سے نمٹنے کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائیںتاکہ مستقبل میں اس طرح کی صورتحال سے جانی و مالی نقصانات نہ ہوں۔
ملک میں سیلاب کی تباہی، عالمی امداد کی فوری اپیل ناگزیر!
![]()
وقتِ اشاعت : September 13 – 2025