|

وقتِ اشاعت :   September 14 – 2025

کوئٹہ : وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور مہر گل مہری کے اہلخانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ مہر گل مری سمیت دیگر لاپتہ افراد کو فوری طور پر منظر عام پر لاکر ان کے اہلخانہ کو اس اذیت اور کرب سے نجات دلائی جائے

ان خیالات کا اظہار چیئرمین نصراللہ بلوچ اور مہر گل مری کے اہلخانہ نے ان کی جبری گمشدگی کو 10 سال مکمل ہونے پر ان کی بازیابی کیلئے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے منعقدہ احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مظاہرے میں مہر گل مری کے اہلخانہ کی خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شریک تھیں۔ مظاہرین نے مہرگل مری کی تصاویر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے

جن پر ان کی فوری بازیابی کے لئے مطالبات درج تھے احتجاجی مظاہرے کے دوران مہر گل کی چھوٹی بیٹی سیرت مری نے کہا کہ انکا خاندان انکے والد کی طویل جبری گمشدگی کی وجہ سے شدید ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا ہونے کے ساتھ بہت سی مشکلات کا شکار ہوئے ہیں اور انکی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے

جس کی وجہ سے ان کی تعلیم اور دیگر امور بری طرح متاثر ہوئے ہیں انہوں نے اعلی حکام سے اپیل کی کہ وہ ان کے والد کی بازیابی کو فوری طور یقینی بنائیں تاکہ ان کے خاندان کو زندگی بھر کی اذیت سے نجات مل سکے مظاہرین سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہرگل مری زراعت میں ڈپٹی ڈائریکٹر تھے انہیں اہلکاروں نے 15 ستمبر 2015 کو سریاب سے غیر قانونی حراست کے بعد جبری لاپتہ کردیا

انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائے گئے کمیشن نے مہر گل مری کے کیس میں پروڈیکشن آرڈر پاس کیا لیکن کمیشن کے پروڈیکشن آرڈر کے باوجود بھی نہ مہرگل مری کو منظر عام پر لایا گیا

اور نہ ہی انکے خاندان کو ان کے حوالے سے معلومات فراہم کی جارہی ہے جو ملکی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جسکی ہم مذمت کرتے ہیں انہوں نے مہر گل مری سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی اور جبری گمشدگیوں کا فوری خاتمہ کرنے کا مطالبہ کیامظاہرین اپنے مطالبات نعرہ بازی کرتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔