|

وقتِ اشاعت :   September 15 – 2025

کوئٹہ:  بلوچستان ہائی کورٹ میں چیئرمین سروسز ٹربیونل اور ممبر کی معطلی کو چیلنج کر دیا گیا عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی،دوران سماعت جسٹس شو کت رخشانی اور درخواست گزار کے وکیل سلیم لاشاری میں تند و تیز اور تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

بلوچستان ہائی کورٹ میں سروسز ٹربیونل کے چیرمین اور ممبر کی معطلی سے متعلق درخواست کی سماعت جسٹس شوکت رخشانی اور جسٹس ایوب ترین نے کی۔

وزیراعلی بلوچستان،چیف سیکرٹری،سیکرٹری ایس اینڈ جی ای ڈی، اور چیف جسٹس ہائیکورٹ کودرخواست گزار کی جانب سے فریق بنایا گیا ہے درخواست گزار کا موقف تھا کہ حکومت نے تین سال کیلئے تعینات کیا تھا یک جنبش قلم ہٹا نہیں سکتی یوں تو قانون کیساتھ مذاق کے مترادف ہے کہ مجھے بنا کسی نوٹس اوروجوع ہٹایاگیا ہے

یہ قانون اورعدلیہ پر حاوی ہونے کی سازش ہے،جس کے بہتر نتائج نہیں نکل سکتے ہم عدالت کے پاس انصاف کیلئے آئے ہیں اور ہمیں توقع ہے کہ ہمیں انصاف ملے گاعدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت جمعرات تک ملتوی کردی

جس پر وکلا نے عدالت سے نوٹیفکیشن کو معطل کرنے کی استدعا کی جسٹس شوکت نے کہاکہ ہم آپ کے مطابق فیصلہ نہیں دے سکتے قانونی طور پر انکا جواب آئے گاپھر کیس چلے گا سلیم لاشاری نے کہاکہ یہ ا نصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو رہے،اگر یہ ہے تو ہم اپنی درخواست واپس لیں گئے پھر بینچ بار پر تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کرتی ہے ہم سب وکیل آپ سے استدعا کررہے ہیں جسٹس شوکت ر خشا نی اور وکلا میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا

جسٹس رخشانی نے کہاکہ آپ ہم پر الزام عائد کررہے ہیں سلیم لاشاری نے کہاکہ ہمیں سب نظر آرہا ہے حکومت انکی جگہ کل کسی اور کا آرڈر کردے تو کون ذمہ دار ہے عدالت نے کہاکہ آپ سینئر وکیل ہیں آپ کو گفتگو کے دوران اپنے الفاظ کا خیال رکھنا چاہئے یہ کہیں سے کہیں چلے جاتے ہیں سلیم لاشاری نے کہاکہ میں نے کوئی بھی لفظ قانون سے بالاتر ادا نہیں کیا بتائیں کوئی بھی ایسی ڈیمانڈ کی جو ماورآئے آئین ہے بعد ازاں عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کردی