گزشتہ دنوں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون 2025 تک ملک پر قرضوں اور واجبات کے اعداد وشمار جاری کردئییجن کے مطابق وفاقی حکومت کا قرض مالی سال2025 میں 13 فیصد بڑھا ہے۔
وفاقی حکومت کا قرض جون 2025 تک 77 ہزار 888 ارب روپے رہا جو جون 2024 میں 68 ہزار 914 ارب روپے تھا۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا مقامی قرض 15.5 فیصد بڑھ کر 54 ہزار 471 ارب روپے اور بیرونی قرض 7.6 فیصد بڑھ کر 23 ہزار 417 ارب روپے ہوگیا ہے۔
بہرحال ملک پر قرضوں اور واجبات کا بوجھ کم ہی نہیں ہورہا کیونکہ ملکی معاشی نظام کو چلانے کیلئے ہر نئی حکومت آئی ایم ایف، مالیاتی اداروں اوردوست ممالک سے قرض لے کر امور مملکت چلاتی ہے جس کی وجہ معاشی تنزلی اور مستقل معاشی پالیسی کا فقدان ہے جبکہ ملک میں اشرافیہ کی بڑی تعداد سرمایہ کاری کرکے اپنی رقم بیرون ملک منتقل کرتے ہیں ، ٹیکس نادہندگان میں بھی اشرافیہ شامل ہے۔
ملک پر قرضوں کی ادائیگی کابوجھ ٹیکسز، مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عام لوگوں پر ڈالا جاتا ہے جو پہلے سے ہی مالی مسائل سے دوچار ہیں۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے معاشی نظام کو چلانے کیلئے قرض لیے جارہے ہیں جوکہ مستقل حل نہیں ہے اس کیلئے حکومت کو اپنی آمدنی کے ذرائع بڑھانے ہوں گے ،اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، ایک مستقل معاشی پلان مرتب کرنا چاہئے جس سے معاشی نظام قرضوں کے بھروسیپر نہ چلے بلکہ ملکی معیشت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوسکے۔
قرض لینے سے مزید مالی بوجھ قومی خزانے پر پڑتا ہے ،حکومت کی آمدن کا زیادہ حصہ قرضوں کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔
قرضوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے حکومت کو ایسے معاشی منصوبوں پر کام کرنا ہوگا جس سے آمدن میں اضافہ ہواس کے لیے معاشی اصلاحات پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔
ٹیکس کے دائرے کو بڑھانا ہوگا، اشرافیہ کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا جو عرصہ دراز سے ٹیکس ادا نہیں کررہے۔
معاشی نظام کو مستحکم کرنے کیلئے منافع بخش اداروں پر مزید سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔
پاکستان معدنیات سمیت دیگر وسائل سے بھی مالا مال خطہ ہے جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے ان پر سرمایہ کاری کی جائے تاکہ معاشی چیلنجز اور قرضوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔
ملک پر واجب الاداقرضے، معیشت کے استحکام کی راہ میں بڑی رکاوٹ
![]()
وقتِ اشاعت : September 20 – 2025