|

وقتِ اشاعت :   September 20 – 2025

بلوچستان میں ہر چند ماہ بعد محکموں میں بے ضابطگیوں کی رپورٹ سامنے آتی ہے۔
بلوچستان کا ایک اہم مسئلہ گورننس ہے مختلف محکموں میں مبینہ کرپشن کی جاتی ہے جس سے صوبائی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے ساتھ ہی اداروں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
بلوچستان کا بجٹ ایک تو پہلے سے کم ہے اگر اس میں بھی کرپشن کی جائے گی تو بلوچستان میں تبدیلی کیسے آئے گی، عوامی مسائل کیسے حل ہونگے۔
بلوچستان میں کرپشن کا راستہ روکنے کیلئے موثر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے ،محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ایماندار آفیسران کو ذمہ داریاں سونپی جائیں تاکہ بلوچستان کی رقم عوام کی فلاح وبہبوداور ترقی پر خرچ ہو۔
بلوچستان کے محکموں میں بے ضابطگیاں تشویشناک ہیں۔ بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں محکمہ ریونیو میں کئی سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی۔
بلوچستان اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی اصغر ترین کی صدارت میں ہوا۔
محکمہ ریونیو کی آڈٹ اور کمپلائنس رپورٹ پر غورکیا گیا جب کہ اجلاس میں کئی سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔
دوران اجلاس پبلک اکاونٹس کمیٹی کو بتایا گیا کہ 17-2016 میں محکمہ ریونیو کے بجٹ میں نان ڈیولپمنٹ فنڈز کی مد میں 3 ارب 33کروڑروپے مختص کیے گئے، محکمہ رقم میں سے 2 ارب 59کروڑ روپے خرچ کرسکا جب کہ 74کروڑ روپے کی بچت کو واپس ہی نہیں کیا گیا۔ 2019-21کے دوران 3کروڑ 37 لاکھ روپے کے اخراجات کا ریکارڈ محکمہ ریونیو نے فراہم نہیں کیا، 22-2020 میں مختلف ڈپٹی کمشنرز نے 19 ارب روپے بینک اکاؤنٹس میں رکھے۔
اجلاس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا گیا کہ سرکاری خزانے کے بجائے بینک اکاؤنٹس میں رقم رکھنا قواعد و ضوابط کے منافی ہے، 21-2019 کے دوران عشر، آبیانہ اور زرعی انکم ٹیکس کی مد میں ایک ارب روپے سے زائد کی وصولی نہیں کی گئی، رقم وصول نہ کرنے سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
بعد ازاں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے5 برس پہلے دیے گئے احکامات پر عملد رآمد نہ کرنے والے ڈپٹی کمشنرز اور کمشنرز کے خلاف تحریک استحقاق لانے کا فیصلہ کرلیا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے ضلعی آفیسران کے خلاف تحریک استحقاق لانا ایک بہترین عمل ہے تاکہ آفیسران کا محاسبہ ہوسکے، اس سے حقائق سامنے آئینگے ،بے ضابطگیوں، مبینہ کرپشن میں ملوث کسی کو بھی نہ چھوڑا جائے، کرپشن ثابت ہونے پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ بلوچستان میں کرپشن کا راستہ روکا جاسکے، ادارے دیانتداری سے کام کریں جس سے بلوچستان کے بیشتر مسائل حل ہونگے ،ادارے بھی بہتر کارکردگی دکھائیں جس سے گورننس بہتر ہوگی۔