کوئٹہ: پشتونخواہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی سیکریٹریٹ میں طلبا تنظیموں کا ایک اہم اور وسیع البنیاد مشترکہ اجلاس بی ایس او پجار کے مرکزی چیئرمین بوہر صالح بلوچ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں بی ایس او کے مرکزی سیکریٹری جنرل صمند بلوچ، پی ایس او کے مرکزی آرگنائزر سیف اللہ خان، پی ایس ایف کے صوبائی صدر طاہر شاہ، ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری مرتضیٰ سلطان اور انصاف اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے شاہ ولی سمیت مختلف طلبا تنظیموں کے قائدین اور اراکین نے شرکت کی۔اجلاس کے شرکاء نے موجودہ ملکی و صوبائی صورتحال پر تفصیل سے بات کی۔
طلبا رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان اور ملک بھر کے تعلیمی ادارے بدحالی کا شکار ہیں، جہاں طلبا کے لئے بنیادی سہولیات میسر نہیں، لائبریریاں ویران ہیں، ہاسٹلز کی حالت ابتر ہے اور تحقیقی ماحول سرے سے موجود ہی نہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تعلیمی اداروں کو بہتر بنانے کے بجائے حکومت وقت اپنے نمائشی منصوبوں پر انحصار کر رہی ہے۔
رہنماؤں نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اسکالرشپس، الیکٹرک بائیکس اور لیپ ٹاپس کے منصوبے شفافیت سے عاری ہیں اور ان میں کرپشن و کمیشن کھلے عام جاری ہے۔ ان اسکیموں کے ذریعے طلبا کو سہولت دینے کے بجائے چند مخصوص افراد اور حلقے مالی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
یہ پالیسیاں دراصل نوجوانوں کو بیوقوف بنانے اور وقتی طور پر خاموش رکھنے کا ہتھیار ہیں،
جنہیں کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں سیاسی جمود پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ملک میں جمہوری عمل کو عملاً معطل کر دیا گیا ہے۔ عوام اور بالخصوص طلبا کو سیاسی عمل سے دور رکھنے کی کوششیں نوجوانوں کو مایوسی اور بے سمتی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ سیاسی عمل کی بحالی اور نوجوانوں کو فعال کردار دینے کے بغیر معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آسکتی۔طلبا تنظیموں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ ان مسائل کے خلاف ایک مشترکہ اور منظم تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔
یہ تحریک پرامن اور جمہوری ہوگی، جس کا مقصد طلبا کو ان کے جائز حقوق دلوانا، تعلیمی اداروں میں شفافیت قائم کرنا اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگا۔ رہنماؤں نے کہا کہ وہ اس اتحاد کو طلبا برادری کی طاقت میں بدلیں گے اور اس کے ذریعے ہر اس پالیسی کو چیلنج کریں گے جو نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک کرنے کا باعث بن رہی ہے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ طلبا تنظیمیں باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ جدوجہد کریں گی اور ایک متحدہ پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی آواز بلند کریں گی۔
شرکاء نے کہا کہ یہ وقت نوجوانوں کے اتحاد اور بیداری کا ہے۔ اگر طلبا اپنی طاقت پہچان لیں تو تعلیمی میدان میں بھی تبدیلی ممکن ہے اور سیاسی جمود کو بھی توڑا جا سکتا ہے۔اجلاس کے دوران اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کے تعلیمی سلسلے کو متاثر کیا جا رہا ہے جو نہ صرف افسوسناک بلکہ طلبا برادری کے لئے پریشانی کا باعث ہے۔ طلبا تنظیموں کا کہنا تھا کہ افغان مہاجر طلبہ کو عالمی قوانین اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے پیشِ نظر اپنی تعلیم مکمل کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر انہیں ملک بدر کرنا ناگزیر ہو تو یہ عمل باعزت اور مہذب طریقے سے ہونا چاہیے
تاکہ وہ اپنی تعلیم اور مستقبل کو ادھورا چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں۔آخر میں رہنماؤں نے اعلان کیا کہ آئندہ دنوں میں اس تحریک کے خدوخال اور عملی لائحہ عمل طے کرنے کے لئے دوبارہ اجلاس بلایا جائے گا، جس میں احتجاجی پروگرام، سیمینارز اور دیگر عوامی سرگرمیوں کا اعلان کیا جائے گا۔ طلبا رہنماؤں نے عوام اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اس جدوجہد میں طلبا کا ساتھ دیں تاکہ کرپشن کے خلاف اور تعلیمی اداروں کی بہتری کے لئے ایک مؤثر دباؤ پیدا کیا جا سکے۔