|

وقتِ اشاعت :   September 22 – 2025

کوئٹہ :  بلو چستان ہا ئی کورٹ کے چیف جسٹس جناب روزی خان بڑیچ اور جسٹس جناب سردار احمد حلیمی پر مشتمل بنچ نے افغان مہا جرین کی انخلا ء اور افغانستان واپسی سے متعلق دائر آئینی درخواست قابل سما عت قرار دیتے ہو ئے

اس با بت وضاحت کے لئے متعلقہ حکام کوطلب کر لیا ہے۔پیر کے روز سما عت کے دوران درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل محمد فرید ڈوگر،اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل ظہور احمد بلو چ پیش ہو ئے سما عت کے دوران درخواست گزار سید نذیر آغا ایڈووکیٹ نے مو قف اختیار کیا کہ افغان بچوں کی بڑی تعداد سکولوں و دیگر تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں جن کے سالانہ امتحانات میں صرف چندما ہ رہ گئے ہیں

انخلا اور واپسی سے ان کا تعلیمی سال ضائع ہو نے اور بڑی تعداد میں مہا جرین کے اپنے جائیدادوں سے محروم ہو جانے کا بھی امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ فغانی با شندے جن کی پا کستانی شہریوں سے شادیاں ہو چکی ہیں وہ پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ 1951کے تحت وہ پاکستانی شہریت کے حقدار ہے

افغانیوں کی جبری بے دخلی پاکستان کے 1973کے آئین کے آرٹیکلز،2A، 25,25A,9,سے متصادم ہے اس لئے عدالت عالیہ اس با بت احکامات صادر فر ما ئے عدالت نے دلا ئل سننے کے بعد آئینی درخواست کو قابل سما عت قرار دیا اور فریقین کو نوٹسز جا ری کر تے ہو ئے وضاحت کے لئے اگلی سما عت پر طلب کر لیا۔

واضح رہے سید نذیر آغا ایڈووکیٹ کی جا نب سے دائر کئے گئے آئینی درخواست میں چیف سیکرٹری بلو چستان، وفا قی سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری منسٹری آف اسٹیٹس اینڈ فرنٹیر ریجن (سیفران)،کمشنر کو ئٹہ ڈویژن،انسپکٹر جنرل آف پو لیس بلو چستان اور ڈائریکٹرجنرل لیویز فورس بلو چستان کو فریق بنا یا گیا ہے آئینی درخواست کی سما عت اگلے ہفتے ہو گی۔